وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت محکمہ خوراک کا اجلاس ہوا، جس میں صوبے میں گندم کی پیداوار، ذخائر، دستیابی، قیمتوں اور مستقبل کی ضروریات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں صوبائی وزراء شرجیل انعام میمن، مکیش کمار چاولہ، جام خان شورو، مخدوم محبوب زمان، محمد بخش خان مہر، وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر برائے بحالی گیان چند اسرانی، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، کمشنر کراچی حسن نقوی، چیئرمین سی ایم آئی ٹی بلاول میمن، وزیراعلیٰ سندھ کے سیکریٹری آصف جمیل، سیکریٹری زراعت زمان ناریجو، سیکریٹری خوراک غلام عباس نائچ اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ مختلف فلور ملز سے ایک لاکھ 72 ہزار میٹرک ٹن سے زائد ذخیرہ کی گئی گندم برآمد کی جا چکی ہے، جس سے مارکیٹ میں گندم کی دستیابی بہتر ہوئی ہے اور آٹے کی قیمتوں میں استحکام آیا ہے۔ بریفنگ کے مطابق 2025-26 کے سیزن میں سندھ میں 47 لاکھ میٹرک ٹن گندم پیدا ہوئی، جبکہ گزشتہ سال کا ایک لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن ذخیرہ بھی موجود ہے۔
15 جولائی 2026 تک صوبے میں تقریباً 26 لاکھ میٹرک ٹن گندم استعمال یا صرف ہو چکی ہے، جس میں 19 لاکھ میٹرک ٹن انسانی استعمال، 5 لاکھ میٹرک ٹن صوبے سے باہر منتقلی اور 2 لاکھ میٹرک ٹن آئندہ بوائی کے لیے بیج کی صورت میں محفوظ رکھی گئی گندم شامل ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس وقت صوبے میں تقریباً 22 لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن گندم کا ذخیرہ موجود ہے، سپلائی چین میں 12 لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن گندم دستیاب ہے، فلور ملز کے پاس 4 لاکھ 80 ہزار میٹرک ٹن، کاشتکاروں کے پاس ذاتی استعمال کے لیے 5 لاکھ میٹرک ٹن، جبکہ محکمہ خوراک کے پاس مجموعی طور پر 3 لاکھ 93 ہزار 832 میٹرک ٹن گندم موجود ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ 15 جولائی 2026 سے 15 مارچ 2027 تک آئندہ آٹھ ماہ کے دوران سندھ کو تقریباً 43 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن گندم درکار ہوگی، جبکہ صوبے سے باہر گندم کی منتقلی اور کھپت کے باعث مارچ 2027 تک تقریباً 21 لاکھ 10 ہزار میٹرک ٹن گندم کے خسارے کا سامنا ہو سکتا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ گندم ایک اسٹریٹجک جنس ہے جو براہِ راست غذائی تحفظ اور عوامی فلاح سے وابستہ ہے، اس لیے متوقع خسارے کو پورا کرنے کے لیے اضافی گندم کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے یہ اعتراض بھی اٹھایا کہ اب بھی 6 لاکھ 10 ہزار میٹرک ٹن گندم کا کوئی حساب موجود نہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاسکو نے سندھ کو 2 لاکھ 20 ہزار میٹرک ٹن گندم 4 ہزار 150 روپے فی 40 کلوگرام کے حساب سے فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے، تاہم اس کے باوجود صوبے کو تقریباً 18 لاکھ 90 ہزار میٹرک ٹن گندم کی کمی کا سامنا رہے گا، جس پر محکمہ خوراک نے پاسکو سے مزید گندم خریدنے کی تجویز پیش کی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف مکمل کریک ڈاؤن کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ غذائی تحفظ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور حکومت ہر ممکن اقدام کرے گی۔
انہوں نے ہدایت کی کہ مناسب قیمتوں پر گندم اور آٹے کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے، صوبے میں اس وقت گندم کی فوری قلت موجود نہیں، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں، ذخیرہ کی گئی گندم برآمد کی جائے، مارکیٹ میں قیمتوں پر کڑی نظر رکھی جائے، مصنوعی قلت پیدا نہ ہونے دی جائے، جامع گندم مینجمنٹ پلان تیار کیا جائے اور ہر پندرہ روز بعد ذخائر، خریداری، کارروائیوں اور مارکیٹ کے رجحانات پر مشتمل رپورٹ پیش کی جائے۔