امریکا کا جنوبی ایران میں بچوں کے کینسر اسپتال کے قریب حملہ، اسپتال عارضی طور پر بند

معصوم ترین انسانوں پربزدلانہ حملہ جنگی جرم ہے، انسانی حقوق کی باتیں کرنے والے اسپتالوں پر حملوں پر خاموش ہیں، ایران


ویب ڈیسک July 16, 2026
فوٹو: مہر نیوز

ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکا نے جنوبی صوبے خوزستان کے شہر اہواز میں قائم بچوں کے کینسر اسپتال کے قریب بدترین حملہ کیا، جس کے بعد اسپتال خالی کرکے خدمات عارضی طور پر معطل کردی گئی ہیں۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اسپتال خالی کرنے کی تصاویر کے ساتھ جاری بیان میں کہا کہ امریکا نے اہواز میں بچوں کے کینسر کے علاج کے مرکز شاہد بقائی اسپتال کے قریب حملہ کیا، جس کے بعد اسپتال کو خالی کرادیا گیا ہے۔

امریکی حملے کو بربریت قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ حملہ بربریت ہے، جو اسرائیل کی جانب سے طبی مراکز پر کیے جانے والے وحشیانہ حملوں کی یاد دلاتا ہے، جس کے نتیجے میں اسپتال میں داخل بچے انتہائی کرب اور ذہنی اضطراب کا شکار ہوئے اور کیموتھراپی کے 211 مریضوں کو ہنگامی بنیاد پر اسپتال سے دوسری جگہ منتقل کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ یہ معصوم ترین انسانوں کے خلاف بزدلانہ اور جنگی جرم ہے جو کینسر جیسے موذی مرض سے اپنی زندگی کی جنگ بہادری سے لڑ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ ہر وقت انسانی حقوق کا راگ الاپتے ہیں وہ اب اسپتالوں اور طبی مراکز کو نشانہ بنائے جانے پر جان بوجھ کر آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں اور اپنی اخلاقی ساکھ کھو چکے ہیں۔

ترجمان نے امریکی حملے کی مذمت کی اور طبی مراکز پر حملوں کی مذمت نہ کرنے پر دنیا کے دیگر ممالک پر بھی تنقید کی۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اہواز کے شہریوں نے بتایا کہ شہر میں رات گئے کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جہاں امریکی جنوب مشرقی شہر کے متعدد علاقوں کو نشانہ بنایا، جس میں قریبی اسپتال بھی شامل ہے۔

فوٹو: مہر نیوز

رپورٹ میں بتایا گیا کہ شاہد بقائی اسپتال کے احاطے میں کئی پروجیکٹائلز آکر گرے، جس کے بعد طبی عملے، مریضوں کے اہل خانہ نے خوف زدہ مریضوں کو وہاں سے نکالا اور دوسرے اسپتال منتقل کرنے لگے۔

اہواز یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز نے بیان میں کہا کہ اسپتال سے منسلک مقامات پر دھماکوں کے بعد اسپتال میں خدمات عارضی طور پر معطل کردی گئی ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ شہر پر دشمن کے حملے اور اسپتال سے ملحق علاقوں میں دھماکوں کے پیش نظر مریضوں اور عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے خدمات بند کردی گئی ہیں۔

ایران کی وزارت صحت کا کہنا تھا کہ امریکی حالیہ جارحیت کی لہر کے دوران زخمیوں کی تعداد 300 سے زائد ہوگئی ہے اور اب تک 35 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں، جن میں دو خواتین اور ایک بچہ شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی حملوں سے ایرانی صوبوں ہرمزگان، سیستان اور بلوچستان اور خوزستان میں نقصان پہنچا ہے اور 72 زخمی اسپتالوں میں داخل ہیں۔