وزیر اعظم ٹاسک فورس کے تحت ماہی گیری کے شعبے میں اہم اقدامات جاری

جھینگا فارمنگ کے فروغ سے ملکی برآمدات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے


ویب ڈیسک July 17, 2026

وزیر اعظم ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کے تحت پاکستان میں ماہی گیری اور آبی زراعت کے شعبے کی ترقی کے لیے اہم اقدامات جاری ہیں جن کا مقصد برآمدات میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ٹاسک فورس کی جانب سے جھینگا (شرمپ) فارمنگ کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جس کے ذریعے نہ صرف آبی زراعت کو وسعت دی جائے گی بلکہ ملکی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ماہی گیری لاکھوں افراد کے روزگار کا ذریعہ ہے اور اس شعبے میں مزید ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں، خصوصاً شرمپ فارمنگ کے ذریعے ملکی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

وزارتِ بحری امور کے مطابق محدود تجارتی ماہی گیری کے فروغ کے لیے ایک جامع منصوبے پر عملدرآمد جاری ہے، جس میں این ایل سی سمیت مختلف ادارے کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔

منصوبے کے تحت سندھ، بلوچستان اور دیگر صوبوں کی نمکین زمینوں پر شرمپ فارمنگ کلسٹرز قائم کیے جا رہے ہیں، جبکہ 3,500 ایکڑ اراضی کو شرمپ فارمز میں تبدیل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں جدید ملٹی پرپز ہیچری بھی قائم کی جائے گی۔

مزید برآں جنوبی پنجاب میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر کے قیام کے ساتھ 1,570 افراد کو تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ ہنرمند افرادی قوت تیار کی جا سکے۔ نجی شعبے کے تعاون سے شرمپ ہیچریز، فیڈ ملز اور پروسیسنگ مراکز بھی قائم کیے جائیں گے۔

حکام کے مطابق اس منصوبے کے نتیجے میں سالانہ 10,500 ٹن برآمدی معیار کی آبی حیات کی پیداوار متوقع ہے، جس سے تقریباً 7.8 ارب روپے کا زرمبادلہ حاصل ہوگا، جبکہ براہِ راست اور بالواسطہ 3,500 سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شرمپ فارمنگ کا فروغ پاکستان کی ساحلی معیشت، آبی زراعت اور برآمدات کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔