بیرون ملک پرکشش ملازمت کا لالچ؛ پاکستان میں جرائم پیشہ عناصر اور انسانی اسمگلرز کا نیٹ ورک فعال

پاکستانیوں کو وزٹ ویزا پر بلوا کر غیر قانونی کام کروائے جاتے ہیں، ذرائع


نعیم اصغر July 17, 2026

اسلام آباد:

بیرون ملک پرکشش ملازمتوں کا لالچ دینے والے جرائم پیشہ عناصر اور انسانی اسمگلرز کا نیٹ ورک پاکستان میں فعال ہوگیا۔

ماہرین نے تنبیہ کی ہے کہ شہری اپنے بچوں کو غیرمعمولی تنخواہ کے لالچ میں تھائی لینڈ، میانمار، کمبوڈیا بھیجنے سے پہلے سوچ سمجھ لیں، کیونکہ پاکستان میں بین الاقوامی منظم جرائم پیشہ عناصر اور انسانی اسمگلرز کے نیٹ ورک کے فعال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستانیوں کو پرکشش نوکریوں کا لالچ دے کر پہلے وزٹ ویزا پر تھائی لینڈ میانمار اور کمبوڈیا بلایا جاتا ہے۔  تازہ اعداد و شمار کے مطابق وزٹ ویزے پر جانے والے 3 ہزار 313 افراد کمبوڈیا سے واپس نہیں آئے۔

پرکشش ملازمتوں کے لالچ میں جانے والے ان پاکستانیوں کو غیرقانونی کاموں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ان افراد سے کمبوڈیا میں قائم سائبر اسکیم سینٹرز میں زبردستی کام کروائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق کمبوڈیا میں قائم غیر قانونی جعلی کمپنیاں بڑے پیمانے پر دنیا بھرمیں فراڈ کرنے میں ملوث ہیں۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ واپس نہ لوٹنے والے پاکستانیوں کو زبردستی ان اسکیم سینٹرزمیں کام کروایا جاتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2024میں 13039پاکستانی کمبوڈیا گئے، 1190واپس نہیں آئے۔ اسی طرح 2025میں 11488 پاکستانی کمبوڈیا گئے، جن میں سے  1933واپس نہیں آئے۔ 2026 میں 395پاکستانی کمبوڈیا گئے 189 واپس نہیں آئے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ 3 سالوں میں کمبوڈیا جانے والے 13.29فیصد پاکستانی واپس نہیں لوٹے۔