آئی سی سی کی جانب سے ورلڈکپ 2027 کے نئے فارمیٹ کے اعلان پر ایسوسی ایٹ ممالک کے کھلاڑیوں اور کپتانوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
نئے نظام کے تحت 14 ٹیمیں ورلڈ کپ میں شریک ہوں گی تاہم کم رینکنگ والی دو ٹیمیں صرف دو ابتدائی میچ کھیلنے کے بعد ہی ٹورنامنٹ سے باہر ہو جائیں گی۔
نیدرلینڈز کے کپتان اسکاٹ ایڈورڈز نے کہا کہ ورلڈ کپ تک رسائی کسی بھی ملک کے لیے برسوں کی محنت کا نتیجہ ہوتی ہے لیکن نئے فارمیٹ نے اس کامیابی کی اہمیت کم کر دی ہے۔
ان کے مطابق آئی سی سی ایک طرف کرکٹ کے عالمی فروغ کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب ایسوسی ایٹ ٹیموں کے لیے بڑے ممالک کے خلاف کھیلنے کے مواقع محدود کیے جا رہے ہیں۔
نمیبیا کے کپتان گیرہارڈ ایراسمس اور اسکاٹ لینڈ کے رچی بیرنگٹن نے بھی فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اہم فیصلوں میں کھلاڑیوں اور متعلقہ ممالک سے مشاورت ضروری تھی۔
ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن نے بھی آئی سی سی کے فیصلے پر شفافیت اور مشاورت کے فقدان پر سوال اٹھائے ہیں۔
تاہم آئی سی سی کا مؤقف ہے کہ نیا فارمیٹ ورلڈ کپ کو زیادہ دلچسپ بنائے گا اور ابھرتی ہوئی ٹیموں کو عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع بھی فراہم کرے گا۔