پورٹ قاسم پر جہازرانی کے شعبے میں متعدد میگا منصوبوں کا آغاز کر دیا گیا ہے جب کہ بندرگاہ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا عمل بھی تیز کر دیا گیا ہے۔
اہم ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل 2027 تک متوقع ہے، جن سے ملکی تجارت اور لاجسٹکس کو نئی رفتار ملے گی۔ جاری منصوبوں کے ذریعے سمندری، ریلوے اور زمینی ٹرانسپورٹ کو ایک مربوط نیٹ ورک میں تبدیل کیا جائے گا، جبکہ ریلوے اور بندرگاہی رابطوں کی بہتری سے کراچی کی سڑکوں پر مال بردار ٹریفک کا دباؤ نمایاں حد تک کم ہوگا۔
مستقبل میں گوادر پورٹ، کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم کو ایک مربوط نظام سے منسلک کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے، جبکہ سمندری آلودگی کے تدارک، مینگروز کے تحفظ اور "سی ٹو اسٹیل" منصوبے کو بھی قومی ترجیحات میں شامل کر لیا گیا ہے۔
چیئرمین پورٹ قاسم اتھارٹی رئیر ایڈمرل (ر) سید معظم الیاس نے کہا کہ پورٹ قاسم پر متحدہ عرب امارات، ترکیہ، قطر اور چین سے دو ارب ڈالر کی نئی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
ان کے مطابق 30 سالہ منصوبے کے تحت یہ غیر ملکی سرمایہ کاری پورٹ قاسم کے انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ریکوڈک مائننگ کمپنی پورٹ قاسم پر براہِ راست 15 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی، جبکہ ریکوڈک سے معدنی ذخائر کی ترسیل کو پورٹ قاسم سے منسلک کرنے کے لیے ریلوے ٹریک کی تعمیر کا آغاز ہو چکا ہے۔
ایم ایل ون منصوبے کے تحت پپری سے پورٹ قاسم تک ریلوے لائن بھی تعمیر کی جا رہی ہے، جسے مستقبل میں تھر کے کوئلے کی برآمد کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پورٹ قاسم پر 25 کروڑ ڈالر کی لاگت سے ڈریجنگ آپریشن کے پہلے مرحلے کا آغاز ہو چکا ہے، جس کے بعد 18 میٹر گہرے بڑے جدید جہاز بھی بندرگاہ پر لنگر انداز ہو سکیں گے۔