صدیوں سے بالوں کی مضبوطی، چمک اور خوبصورتی کے لیے تیل کا استعمال کیا جاتا رہا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف تیل لگانا کافی نہیں، بلکہ اسے درست طریقے سے استعمال کرنا زیادہ ضروری ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے غیر مصدقہ مشوروں پر عمل کرنے کی وجہ سے بہت سے افراد انجانے میں ایسی غلطیاں کرتے ہیں جو بالوں کو فائدہ پہنچانے کے بجائے نقصان کا باعث بن جاتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگا یا مشہور تیل خرید لینے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوتے، بلکہ اپنے بالوں کی ساخت، ضرورت اور صحیح طریقہ استعمال کو سمجھنا ہی صحت مند بالوں کی اصل کنجی ہے۔
بالوں کی نوعیت کے مطابق تیل کا انتخاب ضروری
ماہرین کے مطابق سب سے عام غلطی یہ ہے کہ لوگ اپنی بالوں کی قسم کو نظر انداز کرتے ہوئے وہی تیل استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں جو سوشل میڈیا پر مقبول ہو۔ حالانکہ ہر شخص کے بالوں اور کھوپڑی کی ساخت مختلف ہوتی ہے۔
انسان کی کھوپڑی قدرتی طور پر سیبم (Sebum) نامی تیل پیدا کرتی ہے۔ جن افراد کے بال جلد چکنے ہو جاتے ہیں، ان میں یہ قدرتی تیل زیادہ بنتا ہے۔
اگر بال باریک یا زیادہ چکنے ہوں تو بھاری تیل استعمال کرنے سے جڑیں کمزور پڑ سکتی ہیں۔ ایسے افراد کے لیے آرگن آئل اور جوجوبا آئل نسبتاً بہتر انتخاب سمجھے جاتے ہیں، کیونکہ یہ بالوں کو زیادہ چکنا نہیں کرتے۔ اس کے برعکس گھنے، خشک یا بے جان بال رکھنے والے افراد کے لیے ناریل اور ایووکاڈو آئل زیادہ مفید قرار دیے جاتے ہیں، کیونکہ یہ بالوں کو اضافی غذائیت اور نمی فراہم کرتے ہیں۔
زیادہ تیل ہمیشہ زیادہ فائدہ نہیں دیتا
بعض افراد یہ سمجھتے ہیں کہ جتنا زیادہ تیل لگایا جائے گا، بال اتنے ہی صحت مند ہوں گے، لیکن ماہرین اس تصور کو درست نہیں مانتے۔
ان کے مطابق چند قطرے تیل ہی کافی ہوتے ہیں۔ ضرورت سے زیادہ تیل لگانے سے بال بھاری محسوس ہونے لگتے ہیں، جبکہ کھوپڑی پر چکنائی کی تہہ جم سکتی ہے، جسے صاف کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی صورتحال خشکی، خارش اور دیگر مسائل کو بھی جنم دے سکتی ہے۔
تیل لگانے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق تیل استعمال کرنے سے پہلے اسے ہتھیلیوں میں ہلکا سا گرم کر لینا چاہیے۔ اس کے بعد اسے بالوں کے درمیانی حصے اور سروں پر لگائیں، کیونکہ یہی حصے زیادہ خشک ہوتے ہیں اور دو منہ بال بننے کا خدشہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔
جن افراد کے بال پہلے ہی زیادہ چکنے رہتے ہوں، انہیں کھوپڑی یا جڑوں پر تیل لگانے سے حتی الامکان گریز کرنا چاہیے۔
رات بھر تیل لگا کر سونا ضروری نہیں
اکثر لوگ رات بھر تیل لگا کر سوتے ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق ایسا کرنا ضروری نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ بال دھونے سے تقریباً 30 منٹ سے دو گھنٹے پہلے تیل لگانا کافی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ نہانے کے بعد ہلکے نم بالوں پر بہت معمولی مقدار میں تیل لگایا جا سکتا ہے تاکہ نمی برقرار رہے اور بال آسانی سے سنور سکیں۔
کیا تیل واقعی بال لمبے کرتا ہے؟
سوشل میڈیا پر اکثر دعویٰ کیا جاتا ہے کہ مختلف تیل چند دنوں میں بالوں کی لمبائی میں نمایاں اضافہ کر دیتے ہیں، مگر سائنسی تحقیق اس دعوے کی مکمل حمایت نہیں کرتی۔
ماہرین کے مطابق تیل براہِ راست بال اگانے یا ان کی رفتار بڑھانے کا کام نہیں کرتا، بلکہ یہ بالوں کو ٹوٹنے سے بچاتا، ان میں موجود پروٹین کو محفوظ رکھتا اور انہیں نرم و ملائم بناتا ہے۔ جب بال کم ٹوٹتے ہیں تو وہ زیادہ لمبے اور گھنے دکھائی دیتے ہیں۔
تحقیقی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ ناریل کا تیل بالوں سے پروٹین کے ضیاع کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے، جبکہ آرگن اور جوجوبا آئل خشکی اور بالوں کی بے ترتیبی کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم اب تک ایسا کوئی مضبوط سائنسی ثبوت موجود نہیں جو یہ ثابت کرے کہ تیل بالوں کی نشوونما کی رفتار میں براہِ راست اضافہ کرتا ہے۔
صرف تیل کافی نہیں، کنڈیشنر اور ہیئر ماسک بھی ضروری ہیں
ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ کنڈیشنر اور ہیئر ماسک استعمال کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور صرف تیل پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ یہ درست طریقہ نہیں۔
کنڈیشنر بالوں کو نرم اور سلجھانے میں مدد دیتا ہے، جبکہ ہیئر ماسک اضافی نمی اور پروٹین فراہم کرتا ہے۔ دوسری جانب تیل کا بنیادی کام بالوں کے گرد حفاظتی تہہ بنانا اور نمی برقرار رکھنا ہے، اس لیے اسے مکمل ہیئر کیئر روٹین کا صرف ایک حصہ سمجھنا چاہیے۔
اگر کوئی شخص ہیئر ڈرائر، اسٹریٹنر، کرلر یا ہیئر کلر کا استعمال کرتا ہے تو اسے بالوں کی دیکھ بھال پر مزید توجہ دینی چاہیے۔ متوازن غذا، مناسب مقدار میں پانی پینا اور بالوں کی ضرورت کے مطابق نگہداشت اختیار کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا صحیح تیل کا انتخاب۔
ماہرین کے مطابق خوبصورت، مضبوط اور صحت مند بال کسی ایک پروڈکٹ کا نتیجہ نہیں بلکہ درست معلومات، متوازن عادات اور مستقل نگہداشت کا مجموعہ ہوتے ہیں۔