ٹیکنالوجی کمپنی اوپن اے آئی نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی من مانی کرتے ہوئے بعض اوقات صارف کی اجازت کے بغیر فائلیں ڈیلیٹ کر سکتا ہے۔
حالیہ دنوں میں کوڈیکس (چیٹ جی پی ٹی میں بنا پروگرامنگ پلیٹ فارم) کے کچھ صارفین نے شکایت کی کہ مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارم نے بغیر اجازت ان کی فائلیں ڈیلیٹ کر دیں اور اس متعلق پیشگی اطلاع بھی نہیں دی۔
سافٹ ویئر انجینئر برونو لیموس نے دعویٰ کیا کہ کوڈیکس نے ان کا ’پورا پروڈکشن ڈیٹا بیس‘ ڈیلیٹ کر دیا جبکہ اے آئی سرمایہ کار میٹ شیومر کے مطابق اس ٹول نے غلطی سے ان کے میک کمپیوٹر کی تقریباً تمام فائلیں ڈیلیٹ کر دیں۔
مصنوعی ذہانت کے ماہر گیری مارکس نے کہا کہ اس نوعیت کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ موجودہ اے آئی سسٹمز پر مکمل اعتماد نہیں کیا جا سکتا اور بغیر مناسب حفاظتی اقدامات کے انہیں تیزی سے آگے بڑھانا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
اوپن اے آئی نے ان رپورٹس کے بعد کوڈیکس کے لیے حفاظتی اقدامات اور اجازت کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی بات کی ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔