گزشتہ سالوں سے بچوں کا مستقبل تابناک ہونے کی بجائے سخت خطرے اور تنزلی کا شکار ہے۔ ان کی زندگیوں کی کوئی ضمانت نہیں، کوئی ایسا قانون نہیں ہے جس کی رو سے معاشرے کے دہشت گردوں کو جوکہ ناسور کی مانند ہیں چوک پر لٹکایا جائے۔
قوانین تو مظلوم کی دادرسی سننے اور ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے ضرور ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا ہے۔ ایسا کرنے سے آیا حکومتی ادارے نہ جانے کیوں خوفزدہ ہیں؟ شاید اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ رشوت اور تعلقات آڑے آ جاتے ہیں اور مجرمان کو اگر گرفتار بھی کیا جاتا ہے تو باآسانی بہت جلد رہا کر دیا جاتا ہے لیکن جن گھروں میں یہ حادثات پیش آتے ہیں وہاں اندھیرا چھا جاتا، دلوں میں بھی اور گھروں میں بھی اس تاریکی کو کوئی تاقیامت روشنی میں نہیں بدل سکتا۔
اولاد کی جدائی اور اس پر ہونے والے ظلم و ستم کا وہ داغ ہے جس کا کوئی علاج نہیں، بس اللہ ہی صبر دینے والا ہے۔ اس کی مہربانی و کرم سے زخم مندمل ہو جاتے ہیں، ورنہ تو کوئی چارہ ساز اور غم گسار نہیں۔شہر کراچی کی آبادی جہاں ڈھیروں مسائل کا شکار ہے وہاں بچوں کے عدم تحفظ نے رہا سہا سکون غارت کر دیا ہے۔
پورے پاکستان خصوصاً پنجاب میں اغوا و تشدد و ریپ کے واقعات بلاناغہ ظہور پذیر ہو رہے تھے، اس کے ساتھ جان لیوا بیماری ایڈز میں مبتلا معصوم بچے بھی سامنے آ گئے ہیں۔ گزشتہ ہفتوں میں بلدیہ کے ولیکا اسپتال میں 14 اور پھر 16 بچوں کی تصدیق ہوئی جو ایڈز کی بیماری کا شکار تھے۔
ان میں کئی بچے وفات بھی پا گئے، دوسرے بچے زیر علاج ہیں۔ اب آج (14 جولائی)کی خبر کے مطابق 120 افراد میں ایڈز کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ایچ آئی وی اور ساتھ میں ہیپاٹائٹس سی کی شرح بھی تشویش ناک ہے۔
بیماری کے تیزی سے پھیلاؤ کی اصل وجہ استعمال شدہ طبی فضلہ کھلے عام ڈال دیا جاتا ہے، اسپتال میں اسے تلف کرنے کا کوئی انتظام ہے اور نہ ہی اس بارے میں کسی کو سوچنے کی مہلت میسر آئی۔ ہمیشہ سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے کہ جب پانی سر سے اونچا ہو جاتا ہے اور اس گندے پانی میں لوگ ڈوب جاتے ہیں تب غفلت کی نیند سے متاثرہ اداروں کے منتظمین یا صاحبان اقتدار غفلت کی نیند سے جاگ جاتے ہیں اور احکامات صادر کرتے ہیں لیکن حادثات اور انسانی جانوں کا نقصان ہونے کے بعد کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے۔
دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ ذمے داران اپنی ذمے داری سے غافل رہ کر خواب خرگوش کے مزے لوٹتے ہیں، انھیں یہ معلوم ہی نہیں کہ ان کے حقوق و فرائض کی ادائیگی میں کیا کیا کام ہیں، وہ اپنے مخصوص علاقوں کا دورہ کرنے سے بھی قاصر رہتے ہیں کہ آیا ان اہم اداروں کی کارکردگی کیسی ہے، کیا افسران و کارکنان اپنی ذمے داریاں دیانت داری کے ساتھ پوری کر رہے ہیں یا پھر موج مستی اور کاہلی میں فرائض منصبی کو بھول چکے ہیں اور جو تنخواہیں وصول کرتے ہیں وہ حرام روپے پیسے کی مد میں آتی ہیں یا حلال۔
تازہ خبر کے مطابق متاثرہ بچوں کی تعداد میں ہر روز اضافہ ہو رہا ہے اور اب ننھے اور خطرناک بیماری میں مبتلا مریضوں کی تعداد 81 تک پہنچ چکی ہے۔ اتنا کچھ ہونے کے باوجود ابھی تک استعمال شدہ طبی فضلہ جوں کا توں پڑا ہے اور مزید بیماری کے پھیلاؤ کا سبب بن کر سامنے آیا ہے۔
جہاں اسلام صفائی کا درس دیتا ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے وہاں ایک دوسرے کی عزت، معاشرتی و معاشی بحران کے خاتمے کے لیے مدد اور بھائی چارے کی تعلیم سے بھی روشناس کراتا ہے۔ عزیز و اقارب اور پڑوسیوں کے ایک دوسرے پر حقوق اور والدین کی ذمے داریوں کے بارے میں بھی واضح طور پر قرآن پاک کا درس جوکہ اللہ کے احکامات ہیں ان پر عمل کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔
افسوس کہ ہمارے ملک میں ’’اقرا‘‘ کے لفظ سے ناواقف ہونے کی وجہ سے محرومی کا جال بچھا دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کا سلسلہ ہی ’’اقرا بسم ربک الذی‘‘ سے کیا ہے کہ پڑھ اپنے رب کے نام سے، پھر باقی علوم و درس و تدریس ’’اقرا‘‘ کے بعد کے ہیں۔
قرآن پاک ضابطہ حیات ہے۔ ضابطہ حیات کو سمجھنے کے لیے علم کا حصول لازم ہے لیکن حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ہماری حکومتوں نے حصول علم کے لیے ذرہ برابر توجہ دی اور نہ ہی سخت مہنگائی کے دور میں مددگار ثابت ہوئی ہے۔ بھوکے پیاسے اور بیمار لوگ جنھیں غذا میسر ہے اور نہ علاج معالجہ تو ان حالات میں والدین اپنے بچوں کو کس طرح اسکولوں میں داخل کروا سکتے ہیں، چھوٹی سی عمر میں ان معصوموں کو مشقت کے پہاڑ توڑنے پڑتے ہیں، والدین بھی غیر تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے محنت مزدوری کے لیے اپنے گھروں سے باہر چلے جاتے ہیں۔
ان حالات میں وہ اپنی اولاد کو صراط مستقیم کا راہی بنانے کے لیے اپنے آپ کو مجبور پاتے ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ یہ بچے مثبت سوچ نہ ہونے کی وجہ سے منفی کام کرتے ہیں ’’برے کام کا برا انجام‘‘ اس مقولے سے بھی غافل رہتے ہیں، جہالت کی وجہ سے وہ بنا سوچے سمجھے پل بھر میں اندوہناک قتل و غارت گری اور معصوم بچیوں کا ریپ اور اپنا جرم چھپانے کے لیے انھیں قتل کر دیتے ہیں۔
چند ماہ اور کچھ سالوں سے یہ وبا سامنے آئی ہے جو کرونا سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ کرونا بیماری میں تو جان جاتی تھی لیکن یہاں عزت و وقار اور زندگی داؤ پر لگ جاتی ہے، پورا گھرانہ برباد ہو جاتا ہے۔ یہ معاشرہ بڑا سفاک ہے، متاثرہ خاندان کی داد رسی اور تسلی کے چند بول بولنے کی بجائے الزام تراشی پر اتر آتا ہے۔
زخموں پر مرہم رکھنے کی بجائے ماہر جراح کی طرح مزید چیرے لگانا شروع کر دیتا ہے۔ ہمدرد اور اچھے لوگ بہت کم ہیں، جو اس برے وقت میں ساتھ دیتے ہیں، لیکن ساری عمر والدین ہی انصاف کے حصول کے لیے عدالتوں کے چکر کاٹتے نہیں تھکتے۔
یہ حکومت کا فرض ہے کہ ان درندوں کو تلاش کرکے قرار واقعی اور عبرت ناک انجام سے ہمکنار کرے۔2018 سے آج تک بچیوں کے اغوا اور تشدد کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ زینب انصافی معصوم اور ذہین بچی تھی۔
والدین عمرہ یا حج کی ادائیگی کے لیے گئے ہوئے تھے، ان کی غیر موجودگی میں ایک وحشی درندے نے اس پر ظلم ڈھایا اور آخر کار اسے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ قاتل کو 2018 میں سزائے موت ہوئی۔
اس کے بعد سے مروہ کراچی سندھ، فریشتہ اسلام آباد کی بچی عمر دس سال تھی، فاطمہ کا تعلق رانی پور سندھ سے تھا، عمر اس کی بھی 10 سال تھی، اس کے علاوہ بھی آئے دن یہ سانحات منظر عام پر آتے ہیں لیکن مجرموں کو بہت جلد چھوڑ دیا جاتا ہے۔
ہمارے ملک سے حویلی کلچر کو ختم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ حویلیوں کے تہہ خانوں میں مظلوم خاندان پابہ زنجیر ہوتے ہیں۔ معمولی سی غلطی پر وڈیرے اور چوہدری تشدد اور شخصی آزادی کو سلب کرنے کے لیے کال کوٹھریاں بناتے ہیں۔
مخبری پر پولیس نے کئی خاندانوں اور معصوم بچوں اور بچیوں کو قید تنہائی اور تشدد سے نجات دلائی ہے۔ عدالتوں کو انصاف کی فراہمی کے لیے اپنا کردار منصفی کے ساتھ ادا کرنا چاہیے لیکن ہمارے جج صاحبان انصافی تقاضوں کو روند کر بے قصور لوگوں کو سالہا سال جیل میں مقید رہنے کی سزا بڑی آسانی کے ساتھ دے دیتے ہیں جوکہ سراسر بہت بڑا ظلم ہے۔