آئی ایم ایف اور معاشی ترقی کی شرح

آبنائے ہرمز ایک ایسی تنگ بحری گزرگاہ ہے جو دنیا کے نقشے پر کسی انسان کے حلق کی طرح دکھائی دیتی ہے۔



آبنائے ہرمز ایک ایسی تنگ بحری گزرگاہ ہے جو دنیا کے نقشے پر کسی انسان کے حلق کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ اس حلقوم سے روزانہ کروڑوں بیرل کالا سونا تیل گزرتا ہے جو پاکستان سے لے کر دور دراز واقع ان گنت ملکوں کی معیشتوں کے پھیپھڑوں میں آکسیجن بن کر دوڑتا ہے۔ جب طاقت کے غرور میں دور سے آکر کوئی اس نالی پر ناکہ بندی کا خنجر رکھ دے تو سمندر کا پانی ساکت ہو جاتا ہے۔

ایران اور امریکا کی اس جنگ کی چنگاری سے امریکا پر کوئی اثر نہیں پڑے گا لیکن کراچی کے تنگ و تاریک کسی گلی میں چلنے والی اس مٹی کے تیل کے چولہے کو بجھا دے گی، کیونکہ غریب پنشن ہولڈر کی سکت نہیں رہے گی کہ سلنڈر میں مہنگی ایل پی جی ڈلوائے یا مہنگا مٹی کا تیل خریدے۔ شاید اس کا بیٹا جو اپنی پرانی موٹر سائیکل پر اشیا لاد کر پھیری لگاتا ہے وہ حساب کے تانے بانے بن رہا ہوگا کہ جو منافع ہوتا ہے وہ تو مہنگے ترین پٹرول کی خرید میں نکل جاتا ہے، اس سے بہتر ہے کہ کسی بارونق چورنگی پر بیٹھ جاؤں، شاید مزدوری مل جائے۔ یہ بھی سوچ رہا ہو کہ والد کی پنشن سے تو گھر کا کرایہ اور والد والدہ کی دوا ہی پوری نہیں پڑتی۔ اسی طرح بڑھتی ہوئی لیوی سے ملاوٹ شدہ مہنگا ترین پٹرول جلا کر روزی کمانا اب مشکل ہو گیا ہے۔

چند دن قبل کی بات ہے آئی ایم ایف کی ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق مالیاتی سال 2026-27 کے لیے پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ کا تخمینہ 3.5 فی صد لگایا ہے جب کہ حکومت پاکستان کا ہدف 4 فی صد ہے۔ آئی ایم ایف نے عالمی سطح پر مشرق وسطیٰ کے تنازعات خصوصاً سپلائی چین اور آبنائے ہرمز میں ایندھن کی فراہمی میں ممکنہ رکاوٹوں کو عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ چین نے بھی امریکا کو سخت پیغام دیا ہے۔ امریکا کے ساتھ ایران نے بھی اپنے اردگرد ممالک کے امریکی اڈوں پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ آئی ایم ایف نے اس کے بارے میں عالمی معیشت کو بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔

دنیا کے دیگر ملکوں پر اس کے اثرات جلد یا بدیر پڑتے رہیں گے کیونکہ زیادہ تر ملکوں کے پاس تیل کے ذخائر دو ماہ یا تین ماہ کے ہوں گے، لیکن پاکستان کے پاس تو صرف 18 یا 20 دن کا تیل ہوتا ہے اور عالمی منڈی میں اس روز طے ہونے والی قیمت کی بنیاد پر تیل خریدتا ہے۔ موجودہ صورت حال میں تو تیل کی قیمتیں راتوں رات اونچی اڑان بھرنے لگتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 110 ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ اس صورت حال میں میرا خدشہ یہ ہے کہ ملک میں پٹرول کی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔ اپ کنٹری کے علاقوں میں پٹرول کی قلت کے امکانات زیادہ ہیں۔

حکومت اس سلسلے میں فوری مداخلت کرے اور پٹرولیم کمپنیز کے مالی مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ تیل درآمد کے دیگر ذرائع کو بھی استعمال میں لائے مثلاً فوری طور پر روس سے تیل خریدنے کی بات کی جائے تاکہ ملک میں تیل کی رسد جاری رہے۔ حکومت کے لیے ایک امتحان ہے۔ تیل کی آئے روز بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں کے باعث ایک ایسا ملک جس کے زرمبادلہ کے صندوق میں کچھ ذخائر ہیں تو وہ بھی مانگے تانگے کے ہیں۔ اس کی پٹرولیم درآمدات جس کے بارے میں اپنے جمعرات کے کالم میں لکھا تھا کہ گزشتہ مالی سال میں پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات کی مالیت 17 ارب ڈالر سے اوپر ہو سکتی ہے۔

پی بی ایس کی تازہ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 میں 16 ارب 86 کروڑ 27 لاکھ 42 ہزار ڈالر کی پٹرولیم مصنوعات کی درآمد کی گئی ہیں۔ اس لحاظ سے اگر قیمتیں بڑھنے کا سلسلہ جاری رہا تو ملک کا تجارتی خسارہ جوکہ حکام سمجھیں یا نہ سمجھیں غریب عوام روزانہ موٹرسائیکل میں پٹرول ڈلوا کر اپنی روزی کمانے والے وہ لاکھوں افراد سمجھتے ہیں کہ تجارتی خسارہ ایک اژدھے کی طرح منہ کھولتا ہے جسے وہ جتنا بھی کھلائے اس کی پیاس نہیں بجھتی۔ واضح رہے کہ گزشتہ سے پیوستہ مالی سال کا تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالر اور گزشتہ مالی سال 39 ارب ڈالر، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔

 پاکستان میں یقینی طور پر اگر صورت حال اسی طرح برقرار رہی اور حکومتی توجہ یا کنٹرول سے باہر ہو گئی تو پٹرول کی قیمت 300 سے 400 یا 500 جہاں بھی پہنچے یا نہ پہنچے لیکن غریب عوام کے لیے مہنگائی ایک ایسا دیو بن چکا ہے جو دبے پاؤں کسان کے کھیت سے لے کر قصبوں، دیہاتوں اور شہروں کے تندوروں تک پہنچ چکا ہے۔

جب روٹی بھی مہنگی ہو جائے تو غریب کی تھالی میں رکھی روٹی کی تعداد گھٹتی چلی جاتی ہے۔ ایسے میں وہ آئی ایم ایف کی اس شرح قرض کی پیمائش کہ 3.5 فی صد ہو گی، پاکستان کی شرح ترقی کی پیمائش 4 فی صد ہوگی، وہ پیمائش کے ان پیمانوں کو اپنی کم روٹی والی تھالی، بچوں کے پیٹ میں جانے والے کم نوالوں کی تعداد، چپکے سے بھوکی رہنے والی ماں، خاموشی سے دوائیں کم کرنے والے بوڑھے باپ یا اپنے خالی پیٹ کی گہرائی کو ناپتا ہے کہ معاشی ترقی کی شرح منفی ہے یا مثبت ہے، 3.5 فی صد ہوگی یا 4 فی صد ہوگی۔