کلچر یا ثقافت اور تہذیب

کلچر یا ثقافت سیکھے ہوئے،سلجھے ہوئے رویوں، عادتوں اور طریقوں کا ایک مربوط نظام ہے جو کسی معاشرے کے لوگوں کی پہچان بنتا ہے۔


عبد الحمید July 17, 2026

یہ کچھ سال پہلے کی بات ہے،میں آکیڈمی ادبیات پاکستان میں خدمات سر انجام دے رہا تھا تو ایک مشاعرے کے بعد چائے پر ایک سوال اُٹھا کہ کلچر یا ثقافت کیا ہے۔ایسے محسوس ہوا کہ کلچر کا لفظ ویسے تو ہر ایک کی زبان پر ہے لیکن اکثر افراد کو اس کے معنی یا صحیح مفہوم کا علم نہیں،اسی لیے آج اس کالم میں کلچر پر بات کریں گے اور اگلے کسی کالم میں تہذیب یا سویلائیزیشن کا جائزہ لیں گے۔

انسان کو دیگر تمام مخلوقات سے جو چیز ممتاز کرتی ہے وہ اہم خصوصیت اس کا شعور،اخلاق،Aestheticsکلچر اور تہذیب ہے۔اگر انسان صرف کھانے ،پینے اور بقا کی حدتک محدود رہتا تو کبھی ترقی نہ کرپاتا۔شیکسپیئر نے اپنے المیہ ڈرامے ہیملٹ میںکہا ہے۔What is a man,if his chief good n market of his time be just to sleep n feed, a beast no more.لیکن علم،فن، زبان، اخلاق، مذہب،ادب،رسوم و رواج،سائنسی ترقی اور اجتماعی زندگی نے اسے ایک مہذب،ثقافتی اور اخلاقی وجود عطا کیا۔ثقافت یا کلچر اور تہذیب دو ایسے الفاظ ہیں جو اکثر ایک دوسرے کے مترادف سمجھے جاتے اوراستعمال ہوتے ہیں حالانکہ ان کے مفہوم اور دائرہ کار میں واضح فرق موجود ہے۔ کلچر یاثقافت انسان کی داخلی،فکری اور روحانی زندگی کی نمایندہ ہے جب کہ تہذیب اس کی مادی،سائنسی اور سماجی ترقی کی علامت ہے۔

انگریزی زبان کے لفظ کلچر کو اردو میں ثقافت کہا جاتا ہے۔۔لفظ ثقافت عربی زبان کے لفظ ثقف سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں سیکھنا،،مہارت حاصل کرنا،تربیت پانا اور ذہنی نشوونما حاصل ہونا۔انگریزی لفظ کلچر،لاطینی زبان کے لفظ Cultraسے نکلا ہے جس کا اصل مفہوم،زمین کی کاشت تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کا مطلب انسانی شخصیت اور معاشرے کی نشوونما قرار پایا۔مشہور ماہرِ بشریات Anthropologistایڈورڈ برینٹ ٹائلر کے مطابق کلچر یا ثقافت ایک ایسا پیچیدہ مجموعہ ہے جس میں علم،عقیدہ،فن،اخلاق،قانون،عدل،رسوم و رواج اور وہ تمام صلاحیتیں شامل ہیں جو انسان معاشرے کا ایک رکن ہونے کی حیثیت سے حاصل کرتا ہے۔

کلچر یا ثقافت سیکھے ہوئے،سلجھے ہوئے رویوں،  عادتوں اور طریقوں کا ایک مربوط نظام ہے جو کسی معاشرے کے لوگوں کی پہچان بنتا ہے۔یہ چیزیں انسان کو پیدائش کے ساتھ ورثے میں نہیں ملتیں بلکہ وہ انھیں اپنے گھر،معاشرے تعلیم،تربیت اور تجربے سے سیکھتاہے۔اس لیے کلچر دراصل انسان کی تعلیم، تربیت،نشوونماء اور ان سب کے باوصف بہتری کا عمل ہے ۔تعلیم،تربیت یا دونوں کے ذریعے انسان کے اخلاق،سوچ،علم اور کردار میں نکھارپیدا ہوتا ہے اور یہی کلچر یا ثقافت کہلاتی ہے۔ثقافت اپنی زمین، ماحول، اور معاشرے سے جنم لیتی ہے۔کلچر ایسی چیز نہیں جسے ہم صرف ارادہ کرکے پیدا کر سکیں۔

یہ بہت سی مختلف لیکن ایک دوسرے سے ہم آہنگ سرگرمیوں کا نتیجہ ہوتا ہے جنھیں لوگ اپنے شوق،ضروریات یا مقصد کے لیے انجام دیتے ہیں۔ایک فرد کا کلچر اس گروہ کے کلچر پر منحصر ہوتا ہے جس کا وہ حصہ ہوتا ہے اور گروہ یا طبقے کا کلچر پورے معاشرے کے کلچر پر مبنی ہوتا ہے،جس سے وہ تعلق رکھتا ہے۔اس لیے بنیادی اور اہم ترین چیز پورے معاشرے یا سوسائٹی کا کلچر ہوتا ہے،کیونکہ فرد اور گروہوں کا کلچر اسی سے وجود پذیر ہوتا ہے۔کلچر کو سادہ الفاظ میں یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ وہ چیز ہے جو زندگی کو خوبصورت،بامعنی اور جینے کے قابل بناتا ہے۔

کلچر ہی وہ چیز ہے جس کی وجہ سے بعد میں آنے والی نسلیں کسی ختم ہو جانے والی یا معدوم ہو جانے والی تہذیب کے آثار اور اس کے اثرات کو دیکھ کر یہ کہتے ہیں کہ اس کلچر اور تہذیب کا وجود واقعی اہم اور فائدہ مند تھا اور اس کا دنیا میں ہونا بے مقصد نہیں تھا۔مشہور ادیب اور شاعر ٹی ایس ایلیٹ کا کہنا تھا کہ کوئی بھی کلچر مذہب کے بغیر وجود میں نہیں آ سکتا اور نہ ہی ترقی کر سکتا ہے۔ان کے نزدیک کلچر اور مذہب کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے اور مذہب ہی کلچر کو بنیاد فراہم کرتا ہے۔

کلچر ایک جدید تصور ہے لیکن اس کی بنیاد ایک ایسے لفظ پر ہے جسے سب سے پہلے قدیم رومن دور میں مشہور خطیب و مقرر Marcus Tullius Ciceroنے اپنی کتابTusculan Dispositionsمیںاستعمال کیا۔وہاں اس نے روح کی پرورشThe Cultivation of the Soulیا Cultra Animi کا ذکر کیا تھا۔18ویں اور19ویںصدی عیسوی میں کلچر کا لفظ کسی چیز کی نشوونما،تربیت یا بہتری کے عمل کے معنی میں استعمال ہونے لگا جیسے ایگریکلچر یعنی زراعت اور ہارٹیکلچر یعنی باغبانی میں زمین اور پودوں کی پرورش کی جاتی ہے۔ بعد میں اس لفظ کا مفہوم وسیع ہوتا گیا اور اس سے مراد انسان کی شخصیت کی تعلیم و تربیت کے ذریعے بہتری،نفاست اور اٹھان لی جانے لگی ۔

اس کے بعد یہ لفظ قوم کے اعلیٰ مقاصد،امنگوں اور نظریات کی تکمیل کے معنوں میں استعمال ہونے لگا۔گزشتہ صدی میں کلچر،انتھروپالوجی کا ایک بنیادی تصور بن گیا۔اب اس سے مراد انسانی زندگی کے وہ تمام پہلو ہیں جنھیں صرف وراثتی یا جینیاتی خصوصیات سے نہیں سمجھا جا سکتا۔اس دور میں کلچر کے دو اہم معنی سامنے آئے۔پہلا یہ کہ انسان کی ترقی یافتہ صلاحیت جس کے ذریعے وہ تخیل ،اختراع اور تخلیق کے لیے کام کرتا ہے اور دوسرا مختلف معاشروں اور قوموں کے وہ متعدد طریقے جن کے ذریعے لوگ اپنی زندگی کے تجربات کو سمجھنے اور ان کی درجہ بندی کرتے،ان کی نمائندگی کرتے اور تخلیقی انداز سے اپنی زندگی گزارتے ہیں۔

باہمی رابطہ اور ایک دوسرے سے مسلسل گفتگو کسی بھی کلچرل گروہ کو متحد اور منظم رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کلچرل سرحدیں عام طور پر زبان اور جغرافیائی تقسیم کے مطابق قائم ہوتی ہیں۔اسی طرح عالمگیریت یعنی گلوبلائیزیشن نے کلچر کے دائرے کو بہت وسیع کر دیا ہے جس کے نتیجے میں بڑے کلچرل حلقے وجود میں آتے جا رہے ہیں ۔تعلیم اور روایات کلچر کو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرتی ہیں البتہ کبھی کبھی آپسی چپقلش کی بدولت ایک ہی سوسائٹی کے اندر کچھاؤ اور کلچرل تنازعات بھی جنم لے لیتے ہیں۔

کلچر کے بنیادی عناصر میں مذہب،زبان جینڈر،لہجہ،ٹیکنالوجی،Cuisine،Aesthetics یعنی آرٹ،میوزک،ادب،فیشن اور طرزِ تعمیر،اقدار، آئیڈیالوجی،سماجی برتاؤ،کامرس کے طریقے،لین دین،سوشل سٹرکچر اور تہوار وغیرہ شامل ہیں۔19ویں صدی عیسوی میں انگریزی زبان کے ادیب و شاعر میتھیو آرنلڈ نے کلچر کا لفظ بہترین انسانی Refinement کے لیے استعمال کیا۔

اس طرح دو طرح کے کلچر وجود میں آتے ہیں جنھیں ہائر کلچر اور لوئر کلچر کے طور پر جانا جاتا ہے۔مشہور فرانسیسی ادیب روسو اور اس کے ہم نواؤں کے نزدیک اس طرح کی تفریق پیدا کرنا ایک طرح کی بڑی کرپشن ہے۔ان کے خیال میں فوک کلچر، فوک میوزک،آرٹ اور ادب اصلی زندگی کی نمائندگی کرتے ہیںجب کہ کلاسیکل میوزک بناوٹ اور دکھاوے پر مبنی ہوتا ہے۔

ہم اپنی دنیا کو کئی کلچرل ریجنوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔یہ تقسیم عام طور پر زبان اور جغرافیے کی بنیاد پر ہوتی ہے لیکن سرحدوں کے آر پار رہنے والے صدیوں سے ایک دوسرے سے میل جول اور لین دین کر رہے ہوتے ہیں اس لیے کلچرل ریجنز اوورلیپ بھی کرتے ہیں۔بعض اوقات معاشرے کے کچھ افراد ریجن کے مجموعی کلچر کو اپنے رویوں سے نقصان پہنچا رہے ہوتے ہیں اس طرح ایک نیا کلچر بھی جنم لے سکتا ہے یا پھر یہ رویے محض Counter کلچر ثابت ہوتے ہیں۔ٹی ایس ایلیٹ نے ایک اور بہت اہم بات کی طرف اشارہ کیا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ معاشرے کے وہ قیمتی افراد جو کلچر میں بہت اچھا Contributeکر رہے ہوتے ہیں وہ اکثر اوقات خود کلچرڈCulcheredہونے سے دور ہوتے ہیں۔