مرمت سے تبدیلی تک : صارفیت کی نئی دنیا

یہ صرف ایک جملے کا فرق نہیں، بلکہ دو زمانوں، دو معاشی فلسفوں اور دو تہذیبوں کا فرق ہے۔



گھر میں ایک بار پھراے سی خراب ہوگیا، ٹیکنیشن آیا تو کہنے لگا، سر یہ بہت پرانا ہوگیا ہے کب تک اس پر پیسہ لگاتے رہیں گے، میرا مشورہ ہے کہ نیا لے لیں۔ بیگم نے سنا تو فوراً بولی ’’یہ درست کہہ رہا ہے، نیا خرید لیں‘‘ یہ جملہ سن کر اچانک ذہن ماضی میں چلا گیا، جب ہمارے گھروں میں کوئی چیز خراب ہوتی تھی تو پہلا سوال یہ نہیں ہوتا تھا کہ نیا کیوں نہ لے لیں بلکہ یہ ہوتا تھا کہ ’’اس کی مرمت کون کرے گا؟‘‘

یہ صرف ایک جملے کا فرق نہیں، بلکہ دو زمانوں، دو معاشی فلسفوں اور دو تہذیبوں کا فرق ہے۔گزشتہ صدی میں ’’مرمت‘‘ ایک صنعت تھی، ایک ہنر تھا، ایک ثقافت تھی۔ ریڈیو خراب ہو جاتا تو ریڈیو مکینک موجود تھا۔ ٹیلی ویژن میں خرابی آتی تو الیکٹرانکس کے ماہر کے پاس لے جایا جاتا۔ پنکھا، استری، سلائی مشین، گھڑی، سائیکل، فرنیچر، یہاں تک کہ بچوں کے کھلونے بھی بار بار مرمت ہو کر نئی زندگی پا لیتے تھے۔ مشینی اشیاء خراب ہونے سے ختم نہیں ہوتی تھی بلکہ مرمت سے دوبارہ فعال ہو جاتی تھی۔

پاکستان کے پرانے بازار آج بھی اس دور کی یاد دلاتے ہیں۔ کراچی کی ریگل مارکیٹ، صدر، برنس روڈ کے اطراف، لاہور کا مال روڈ، راولپنڈی کا راجہ بازار اور پشاور کا قصہ خوانی بازار صرف خرید و فروخت کے مراکز نہیں تھے بلکہ مرمت کی ایک مکمل معیشت تھے۔ یہاں ہزاروں لوگ پرزے بناتے، تبدیل کرتے اور پرانی چیزوں کو دوبارہ قابلِ استعمال بناتے تھے۔

یہی وجہ تھی کہ ایک ریڈیو، پنکھا یا سلائی مشین کئی دہائیوں تک گھر کا حصہ بنی رہتی تھی۔ اس دور کی صنعت کا بنیادی اصول تھا کہ اعتماد پیدا کرو، معیار دو، گاہک خود واپس آئے گا۔ جاپان کی کمپنیوں نے اسی اصول پر عالمی شہرت حاصل کی۔ ان کی مصنوعات صرف فروخت نہیں ہوتیں تھیں بلکہ نسلوں تک استعمال ہونے کی مثال بن جاتی تھیں۔ یورپ کی کمپنیاں بھی مضبوطی اور پائیداری کی علامت سمجھی جاتی تھیں،پھر منظر نامہ بدلنا شروع ہوا۔

بیسویں صدی کے آخری عشروں میں عالمی معیشت نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ مقابلہ بڑھا، پیداوار میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور کمپنیوں کو احساس ہوا کہ اگر ایک ہی چیز بیس، پچیس سال چلتی رہی تو نئی مصنوعات کون خریدے گا؟ یہیں سے ایک نئے معاشی تصور نے جنم لیا جسے ماہرین Planned Obsolescence یعنی ’’منصوبہ بند فرسودگی‘‘ کہتے ہیں۔ اس کا بنیادی خیال یہ تھا کہ مصنوعات اس انداز سے تیار کی جائیں کہ چند برس بعد وہ تکنیکی، سافٹ ویئر یا مرمتی اعتبار سے پرانی محسوس ہونے لگیں، تاکہ صارف دوبارہ خریداری کرے۔

 انیسویں صدی کے اختتام اور بیسویں صدی کے آغاز میں جب برقی بلب عام ہونا شروع ہوئے تو مختلف کمپنیاں ایک دوسرے سے بڑھ کر مضبوط اور دیرپا بلب بنانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ یہ دور معیار اور پائیداری کا تھا۔ بعض ابتدائی بلب ہزاروں گھنٹے بلکہ اس سے بھی زیادہ چل جاتے تھے۔ امریکا کے شہر لیورمور، کیلیفورنیا میں نصب ایک مشہور بلب، جسے آج ''Centennial Light'' کہا جاتا ہے، 1901ء سے مسلسل جلنے کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہوا، اگرچہ یہ ایک غیر معمولی مثال ہے، لیکن اس نے یہ سوال ضرور پیدا کیا کہ اگر ایک بلب اتنی دیر چل سکتا ہے تو پھر عام بلب کیوں نہیں؟1924ء میں یورپ اور امریکا کی چند بڑی بلب ساز کمپنیوں نے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ایک اتحاد قائم کیا، جسے بعد میں Phoebus Cartel کے نام سے جانا گیا۔ اس اتحاد میں اس زمانے کی معروف کمپنیوں سمیت دیگر ادارے شامل تھے۔

ان کمپنیوں کا بنیادی مقصد عالمی منڈی میں قیمتوں، معیار اور پیداوار کے حوالے سے ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔بعد میں منظر عام پر آنے والی تاریخی دستاویزات اور محققین کی تحقیقات سے یہ بحث سامنے آئی کہ اس اتحاد نے بلبوں کی اوسط عمر تقریباً 1000 گھنٹے تک محدود رکھنے کی پالیسی اختیار کی۔ اس دعوے کے مطابق اگر کوئی کمپنی اس معیار سے کہیں زیادہ دیر چلنے والا بلب تیار کرتی تو اسے جرمانے یا دیگر دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ بعض مورخین اسے Planned Obsolescence کی اولین مثال قرار دیتے ہیں، جب کہ دوسرے محققین کا موقف ہے کہ 1000 گھنٹے کی حد کا تعلق صرف منافع نہیں بلکہ روشنی کی شدت، توانائی کی کارکردگی اور اس دور کی تکنیکی ضروریات سے بھی تھا۔

اس واقعے نے ایک بنیادی سوال ضرور جنم دیا کہ کیا صنعت کا مقصد ایسی مصنوعات بنانا ہے جو زیادہ سے زیادہ دیر چلیں یا ایسی مصنوعات جو صارف کو بار بار خریداری پر مجبور کریں؟یہ سوال صرف بلب تک محدود نہیں رہا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا میں بڑے پیمانے پر پیداوار، اشتہارات اور صارفیت کا نیا دور شروع ہوا۔ کارخانوں کو مسلسل چلانے کے لیے مسلسل خریدار بھی درکار تھے۔ چنانچہ مارکیٹنگ نے انسان کی ’’ضرورت‘‘کو ’’خواہش‘‘ میں بدلنا شروع کیا۔

ہر سال نیا ماڈل، نیا ڈیزائن اور نئی خصوصیات متعارف کرائی جانے لگیں، جو چیز کل جدید تھی، آج پرانی محسوس ہونے لگی۔ اسی فلسفے نے ’’استعمال کرو اور پھینک دو‘‘(Throwaway Culture) کو جنم دیا۔ اب چیزوں کی مرمت کم اور تبدیلی زیادہ ہونے لگی۔ مرمت کی دکانیں سکڑتی گئیں، جب کہ شاپنگ مال اور برانڈڈ شوروم پھیلتے گئے۔یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ تمام کمپنیاں دانستہ طور پر مصنوعات کی عمر کم کرتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کی بہت سی مصنوعات پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔ ان میں کمپیوٹر چپس، سینسرز، سافٹ ویئر اور جدید مواد استعمال ہوتا ہے، جس سے مرمت واقعی مشکل ہو جاتی ہے، لیکن یہ سوال پھر بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر ٹیکنالوجی اتنی ترقی کر گئی ہے تو مرمت پہلے سے آسان کیوں نہیں ہوئی؟یہی وہ سوال ہے جو آج دنیا بھر میں Right to Repair کی تحریک کو تقویت دے رہا ہے۔

صارفین، انجینئر، ماحولیات کے ماہرین اور قانون ساز یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ کمپنیوں کو ایسی مصنوعات بنانا ضروری ہے کہ جن کی بیٹری، اسکرین، موٹر یا دیگر پرزے آسانی سے تبدیل کیے جا سکیں، تاکہ ایک معمولی خرابی پوری مشین کو کچرے میں تبدیل نہ کر دے۔ دوسری طرف ایک حقیقت یہ بھی کہ ابلاغیات اورمارکیٹنگ ٹولز نے مل کر انسانی ذہنوں کو اس قدر مفلوج کر دیا ہے کہ وہ اپنا نفع نقصان اور ضرورت دیکھنے کے بجائے یہ دیکھتے ہیں کہ وہ کس طرح سے کوئی نئی چیز لے سکتے ہیں، اگر ہمارے گھر میں ٹی وی یا ائرکنڈ یشنڈصحیح طور پر کام کر رہا ہو تب بھی ہمارے ذہن میں یہ ہوتا ہے کہ ہم کیوں نہ نئے ماڈل کے ایل ای ڈی اور اے سی لے لیں یا ایک موبائل ہمارے کام اچھی طرح سے آرہا ہے لیکن نیا ماڈل آتے ہی ہم سوچتے ہیں کہ کس طرح سے کہ کب اس کو خریدیں یا گھر میں ہمارے پاس پہننے کو اور تقریب میں جانے کو اچھے جوڑے ہوتے ہیں لیکن جیسے ہی کوئی تقریب آتی ہے ہم سوچتے ہیں کتنے نئے جوڑے خریدیں؟ اگر ہم اپنے ان کرداروں کو جائزہ لیں جن کو ہم اپنا رول ماڈل مانتے ہیں معلوم ہوگا کہ ہمارے یہ رول ماڈل کم سے کم اشیاء استعمال کرتے تھے اور پرانی اشیاء کو ہی زیادہ سے زیادہ وقت استعمال میں لاتے تھے، کپڑے خراب ہو جائیں تو پیوند لگا کے کام چلا لیتے تھے، چپل ٹوٹ جائے تو اس کو بھی سلائی کروا لیتے تھے، بہت ہی سادہ زندگی گزارتے تھے۔ 10، 20 سال پہلے ہمارے ہاں بھی یہ کلچر تھا کہ گھر کی چپل کو ایک بار نہیں کئی بار مرمت کروا کے پہنتے تھے لیکن شاید اب ہمارا ذہن بدل چکا ہے یا بدل دیا گیا ہے جو اب روایتی کلچر کو بھی بدلنا چاہتا ہے۔