اردو بولنے والوں کا مستقبل، صرف پاکستان

ہجرت کر کے آنیوالے سرمائے کے ساتھ ساتھ اپنے جہاز تک لے آئے تھے


کشور زہرا July 19, 2026

تقسیم ہند سے قبل انگریزوں کے دیے ہوئے نظام کے مطابق محدود طبقے کو خطابات اور انعامات سے نوازا گیا جب کہ کھیتوں کھلیانوں میں کام کرنیوالوں کو الگ اور نچلے طبقے کے طور پر قائم رکھا گیا کہ مزدوری کا محنتانہ، صرف اتنا ملتا تھا کہ وہ ایک وقت کی روٹی کھا سکیں اور اب بھی یہی طریقہ کار ہمارے محنت کش کے ساتھ روا رکھا جا رہا ہے۔

ایک طرف طاقتور طبقہ تو دوسری طرف دن بہ دن لاغر و نا تواں بدن لیے غریب عوام۔ آج بھی ایسا ہی نظام جاری و ساری ہے۔ بقول شاعر:

غریب شہر ترستا ہے اک نوالے کو

امیر شہر کے کتے بھی راج کرتے ہیں

دوسری طرف قیام پاکستان کے بعد جو اردو بولنے والے یہاں ہجرت کر کے آئے تھے ان میں اعلیٰ بیورو کریٹس کے ساتھ ساتھ انجینئرز، ڈاکٹرز، صنعت کار اور کئی طرح کے ہنر یافتہ لوگ تھے، جنھوں نے ملک و ملت کی نئی راہیں متعین کیں۔

جس کا حوالہ میرے گزشتہ کالمز میں تفصیل سے موجود ہے۔ یہاں میں واضح کرتی چلوں کہ پہلے سے بسنے والے لوگوں کے لیے انگریز سامراجی نظام کی باقیات کی وجہ سے تعلیم تو دور کی بات، انھیں سر اٹھانے تک کی اجازت نہیں تھی۔

سو! وہ روش کم و بیش آج بھی ہے۔ اس کا ایک انتہائی پہلو پیش کرتی ہوں کہ ہندوستان سے پاکستان ہجرت کر کے آنیوالوں نے جب اس سرزمین پر قدم رکھا تو وہاں سے ایک خاص کلچر لے کر آئے تھے جن میں دہلی، آگرہ، حیدر آباد، دکن، لکھنو، جے پور وغیرہ سے تعلیم و تربیت ان آنے والوں کا خاصہ تھی۔

اس خطے میں پہلے سے بسے ہوئے لوگوں میں جن میں پیر الٰہی بخش جیسے لوگ جنھوں نے آنیوالوں کو نہ صرف خوش آمدید کہا بلکہ آباد کاری بھی کروائی۔ پیر الٰہی بخش کالونی اس کا ثبوت ہے۔

آنیوالوں نے بھی اس کا حق ادا کر دیا متمول گھرانوں سے آئے افراد نے تعلیمی ادارے بنائے جہاں اس وقت کسی بھی قسم کی نسل پرستی کا دور دور تک نام نہیں تھا لیکن آہستہ آہستہ گفتگو سے لفظ ’’ہم‘‘ ختم ہونے لگا اور ہم اور تم بن گئے۔

یہی وہ ابتدا تھی جس سے ان کے دیے ہوئے لقب مہاجر کو اردو بولنے والوں نے اپنی شناخت اور اپنے سرکا تاج بنالیا۔ انھی مہاجروں نے یہاں کاروبار اور تجارت کی بنیاد رکھی، جس سے نہ صرف گردو نواح بلکہ پاکستان بھر سے لوگ روزی کی تلاش میں کراچی کا رخ کرنے لگے جس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

ہجرت کر کے آنیوالے سرمائے کے ساتھ ساتھ اپنے جہاز تک لے آئے تھے لیکن دو دہائیوں تک جب ہجرت کر کے آنیوالے اس زمین کو اپنا مستقل مسکن بنا چکے تھے، آباد کاری کا انتظام کرنے والوں کی بھی ایک نسل پروان چڑھ چکی تھی، تو اچانک سے رویے بدلنے لگے، کوٹہ سسٹم اور قومی زبان اردو کی تضحیک جس میں مشہور زمانہ اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

لیکن میں یہاں یہ بر ملا کہہ رہی ہوں کہ نہ تو اردو کا جنازہ نکلے گا اور جو سر زمین میرے آباؤ اجداد نے بے پناہ قربانیوں کے بعد حاصل کی تھی، نہ اس کو چھوڑ کر کہیں جائیں گے۔ ہم نئے عزم، نئے حوصلے کے ساتھ اس ملک و ملت کی حفاظت، اس کے تقدس اور اس سے بے پناہ محبت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

ایم کیو ایم پاکستان کی سیاست کی ایک اہم اکائی تھی جس کے بنا حکومت سازی تقریباً ناممکن رہی۔ ایم کیو ایم کے کارکنوں کی سیاسی تربیت جو برسوں پر محیط تھی، اس تربیت سے ان کو صرف سیاسی نہیں بلکہ سماجی شعور بھی ملا ہے۔

آج ان کی خاموشی بتا رہی ہے کہ گزشتہ کل، آج اور آنیوالے وقت میں بھی ایم کیو ایم کی اصل قوت و طاقت عوام یعنی مہاجر ہی ہیں جو پاکستان کے مختلف حصوں میں آباد ہیں۔ میں یہاں یہ بھی واضح کرتی چلوں کہ یہ تحریک کسی ایک شخصیت کی ذاتی تابع کبھی نہیں رہی، بلکہ اس تحریک نے تو نسل در نسل سیاست، جاگیرداری، وڈیرہ ازم کے خلاف ہمیشہ آواز اٹھائی، تو پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ متوسط طبقے کی نمائندگی کا نظریہ رکھنے والی ایم کیو ایم، ان لوگوں کہ جن کے طرز زندگی وڈیرہ شاہی، جاگیرداری نظام کی طرح ہو، انھیں اپنا حصہ تصور کرے۔

ایسے لوگ اب اس تحریک میں بھی شامل ہو چکے ہیں جو بسوں میں سفر کرتے کرتے بڑی گاڑیوں میں بیٹھ کر، دھونس جماتے نظر آتے ہیں۔ چھ چھ محافظوں کا دستہ ان کے ساتھ سفر میں ہو تا ہے، یہ طرز زندگی ایم کیو ایم کی فکر نہیں ہوسکتی۔

اس متوسط طبقے کی تحریک میں شامل ہونیوالے چند عاقبت نا اندیش سیاست میں اونچی منزلوں پر نگاہیں مرکوز کر بیٹھے۔ اس جوش میں وہ یہ بھول گئے کہ ایم کیو ایم کو بنانے والی مہاجر آبادی یعنی عوام ان سے مایوس ہو رہے ہیں۔

میں سمجھتی ہوں ماضی کے چند انتخابات کے بیلٹ باکس کھول کر دیکھے جائیں تو مہاجروں کا ووٹ بہت کم تھا، اب کس کا تھا؟ وہ اللہ بہتر جانے۔ یہ آپ بھی جانتے ہیں کہ ان میں سے کچھ خود ساختہ لیڈرز عرصہ دراز سے الیکشن ہارتے چلے آ رہے تھے، اچانک ان کا مینڈیٹ کہاں سے آگیا؟

اور اس جیت کے باوجود ان کی حیثیت بغیر پروں کی چڑیا جیسی ہے لیکن پورے پاکستان کے عوام کا شعور اتنا بیدار ہے کہ وہ جانتے ہیں کون منتخب ہے؟ اور کون چھلانگ لگا کے آگیا ہے؟ آخر میں ضروری سمجھتی ہوں کہ قوم کو بتاؤں، ان لوگوں کو بھی جو ایم کیو ایم کے ڈوبنے کے منتظر ہیں کہ یہ کہیں نہیں جارہی اور نہ ہی زوال پذیر ہے۔

MQM عوام کی طاقت کا نام ہے۔ گلی محلوں میں جو میلے ٹھیلے ہو رہے ہیں، ان سے اس تحریک کے مشن کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اب وقت کے ساتھ نئی نسل یہ ذمے داری اٹھا رہی ہے تو پرچم ان کے ہاتھ میں ہونا چاہیے اور ہم سینئرز کو چاہیے کہ ان کی سوچ میں روڑے اٹکانے کے بجائے راہیں ہموار کریں۔