پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں 18 سالہ طالب علم سے مبینہ اجتماعی جنسی زیادتی کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق نوجوان کو مبینہ طور پر ورغلا کر سالگرہ کا بہانہ بنا کر ایک رہائشی عمارت میں لے جایا گیا، جہاں اسے مبینہ طور پر نشہ آور چیز پلائی گئی۔
مقدمے کے متن کے مطابق تین سے چار افراد نے باری باری نوجوان کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا، جبکہ بعد ازاں اسے نیم مردہ حالت میں بائی پاس روڈ کے کنارے پھینک دیا گیا۔ راہگیروں کی اطلاع پر ریسکیو 1122 نے متاثرہ نوجوان کو اسپتال منتقل کیا۔
پولیس کے مطابق طالب علم کی درخواست پر تھانہ سٹی سی ڈویژن میں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں اور متاثرہ نوجوان کا میڈیکل بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔
پولیس نے مقدمے میں نامزد ملزم حماد اکرم ولد اکرم مسیح، سکنہ حبیب کالونی، کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ مقدمے میں نامزد تین دیگر ملزمان نے عدالت سے قبل از گرفتاری ضمانت حاصل کر لی ہے۔
متاثرہ نوجوان کے والد کا کہنا ہے کہ زیادتی کے بعد ان کے بیٹے کو جان سے مارنے کی بھی کوشش کی گئی، جبکہ جائے وقوعہ کا پورا کمرہ خون آلود تھا۔
پولیس کے مطابق مقدمے کی تفتیش جاری ہے اور شواہد کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔