چین کا خلائی دفاع کا بڑا منصوبہ، سیارچے سے خلائی جہاز ٹکرانے کی تیاری

تحقیق کے مطابق خلائی جہاز تقریباً 9 کلومیٹر فی سیکنڈ سے زیادہ رفتار سے سیارچے سے ٹکرائے گا


ویب ڈیسک July 19, 2026

چین نے زمین کو ممکنہ خطرناک سیارچوں سے محفوظ بنانے کے لیے ایک اہم خلائی مشن کی تیاری شروع کر دی ہے، جس کے تحت 2030 سے پہلے ایک خلائی جہاز کو جان بوجھ کر ایک سیارچے سے ٹکرایا جائے گا۔

چینی سائنس دانوں کے مطابق اس مشن کا مقصد صرف تجربہ کرنا نہیں بلکہ سیارچے کے زمین کے مقابلے میں مدار کو تبدیل کرنا، یا ضرورت پڑنے پر اس کی ساخت کو متاثر کرنا بھی ہے۔

یہ منصوبہ چائنا نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن کے سیاروی دفاع کے چیف سائنس دان لی منگ تاؤ کی سربراہی میں تیار کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے تحقیقی مقالہ چینی زبان کے سائنسی جریدے جرنل آف ڈِیپ اسپیس ایکسپلوریشن میں جائزے کے مرحلے میں ہے۔

تحقیق کے مطابق خلائی جہاز تقریباً 9 کلومیٹر فی سیکنڈ سے زیادہ رفتار سے سیارچے سے ٹکرائے گا، جو آواز کی رفتار سے تقریباً 26 گنا زیادہ ہے۔ یہ تصادم 2029 یا 2030 میں اس وقت متوقع ہے جب متعلقہ شہابیہ زمین سے تقریباً 70 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے گزرے گا۔

اس مشن میں ایک دوسرا خلائی جہاز بھی شامل ہوگا، جو تصادم سے پہلے، دورانِ تصادم اور بعد میں سیارچے کا مشاہدہ کرے گا۔ یہ اس کے مدار، شکل، سطح اور اندرونی ساخت میں آنے والی تبدیلیوں کا تفصیلی جائزہ لے گا۔

چینی محققین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ ناسا کے ڈبل ایسٹیرائیڈ ری ڈائریکشن ٹیسٹ (ڈارٹ) مشن سے زیادہ عملی نوعیت کا ہے کیونکہ ڈارٹ نے صرف ایک شہابیے کے دوسرے شہابیے کے گرد مدار میں معمولی تبدیلی پیدا کی تھی، جبکہ چین کا ہدف زمین کے حوالے سے شہابیے کے راستے کو تبدیل کرنے کی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کرنا ہے۔