امریکا نے دارخوین جوہری پاور پلانٹ کو نشانہ بنایا، ایران کا اظہار مذمت

اس جوہری تنصیب کی حفاظت اور نگرانی معاہدے کے تحت آئی اے ای اے کے پاس ہے، ایجنسی اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، ایران


ویب ڈیسک July 19, 2026
فوٹو: فارس خبرایجنسی

ایران نے امریکی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی ایران کے صوبے خوزستان میں قائم دارخوین جوہری پاور کے تعمیری مقام کو حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے جو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

خبرایجنسی فارس کی رپورٹ کے مطابق ایران کی جوہری توانائی کی تنظیم(اے ای او آئی) کے انفارمیشن سینٹر کے مطابق امریکا نے جوہری پاور پلانٹ کے تعمیری مقام پر اتوار کو صبح حملہ کی جو بین الاقوامی قوانین اور قواعد کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ دہشت گرد اور جرائم کا ارتکاب کرنے والا امریکا نے ایران کی سائنسی فخر اور دفاع کی متعدد علامات میں سے ایک دارخوین جوہری پاور پلانٹ کے زیرتعمیر مقام پر جارحانہ اور بربریت سے بھرپو حملہ کیا، امریکا کی سرشت میں بدتمیری اور قانون کی خلاف ورزی شامل ہے۔

اے ای او آئی نے کہا کہ اشتعال انگیز دہشت گردی کے حملے کا مقصد ایران کا ترقی اور آزادی کے راستے کو روکنا ہے، جو نہ صرف بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ ایران کے نوجوان ماہرین اور سائنس دانوں کی کامیابیوں کو براہ راست نشانہ بنایا گیا ہے۔

پلانٹ کے حوالے سے بتایا گیا کہ یہاں ایرانی سائنس دان اپنے علم اور مقامی صلاحیتوں کے ذریعہ قومی منصوبے چلا رہے ہیں۔

ایرانی جوہری تنظیم نے زور دیا کہ مذکورہ تنصیب بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) اور ایران کے درمیان موجود معاہدہ کمپری ہینو سیف گارڈ اگریمنٹ کے تحت آئی اے ای اے کی حفاظت اور نگرانی میں ہے اور یہاں تمام سرگرمیاں پرامن اور قانون کے دائرے میں ہوتی ہیں۔

امریکا کے رویے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ آئی اے ای اے کی حفاظت میں موجود تنصیبات پر امریکی حملہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ آئی اے ای اے جنرل کانفرنس کی قراردادوں 444 اور 533 میں واضح طور پر قرار دیا گیا ہے کہ پرامن جوہری تنصیبات پر کسی قسم کا حملہ یا دھمکی کو بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور آئی اے ای اے کے آئین کے خلاف تصور کیا جائے گا۔

ایرانی حکومت نے آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل سے مطالبہ کیا کہ خاموشی توڑ کر ان حملوں کی مذمت کریں کیونکہ یہ حملوں سے این پی ٹی کے معاہدوں، انٹرنیشنل نیوکلیئر سیف گارڈ سسٹم اور آئی اے ای اے کے قوانین کو بھی کمزور کر رہے ہیں لہٰذا آئی اے ای اے اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کرے۔

ایرانی جوہری تنظیم نے کہا کہ بربریت اور مجرمانہ اقدامات سے ایرانی قوم کا عزم کمزور نہیں ہوگا بلکہ اس کے برعکس ملک کے جوہری ماہرین کا اپنے کام میں جدت لانے، آگے بڑھنے اور خودانحصاری سے مزین کرنے کا عزم مزید پختہ ہوگا۔