اوئسٹر کھانے سے کینسر کا خطرہ کم ہونے میں مدد مل سکتی ہے: تحقیق

یہ تحقیق اٹلی کی یونیورسٹی آف فیرارا کے محققین نے کی


ویب ڈیسک July 20, 2026

ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اوئسٹر کھانے سے کینسر سمیت متعدد بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اٹلی کی یونیورسٹی آف فیرارا کے محققین کے مطابق مقامی پیسیفک اوئسٹر سے حاصل کیے گئے ایک خاص عرق نے آنتوں کے خلیوں میں سوزش کو کم کرنے میں مثبت نتائج دکھائے۔

ماہرین کے مطابق آنتوں کی دائمی سوزش کینسر، ٹائپ ٹو ذیابیطس، دل کی بیماریوں اور آنتوں کی سوزش جیسی متعدد بیماریوں سے منسلک سمجھی جاتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ آنتوں کی حفاظتی دیوار کمزور ہونے (جسے عام طور پر ’لیکی گٹ‘ کہا جاتا ہے) کے باعث بیکٹیریا اور زہریلے مادے خون میں داخل ہو سکتے ہیں، جس سے جسم میں سوزش بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ آنتوں کی یہی سوزش 50 سال سے کم عمر افراد میں آنتوں کے کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز کی ایک ممکنہ وجہ بھی ہو سکتی ہے۔

محققین نے مزید بتایا کہ سمندری غذا، خصوصاً اوئسٹر، کم چکنائی والے پروٹین، اومیگا تھری فیٹی ایسڈز، وٹامن بی 12، آئرن اور سیلینیم سے بھرپور ہوتے ہیں، جو دل کی صحت بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

البتہ ماہرین نے واضح کیا کہ یہ تحقیق ابتدائی نوعیت کی ہے اور اس کے نتائج کی مزید انسانی مطالعات کے ذریعے تصدیق کی ضرورت ہے، اس لیے صرف سیپ کھانے کو کینسر سے بچاؤ کا یقینی طریقہ نہیں سمجھا جا سکتا۔