امریکی فوج نے کہا ہے کہ ایرانی کے عراق میں قائم فوجی بیس پر کیے گئے حملے میں ایک فوجی ہلاک ہوا جبکہ ایران کے کویت سمیت دیگر ممالک میں امریکی بیسز پر حملے جاری ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے بیان میں کہا کہ شمالی عراق میں 18 جولائی کو ایران کی جانب سے کیے گئے ڈرون حملے میں ایک فوجی ہلاک ہوا، اس سے قبل اردن میں دو امریکی فوجی لاپتا ہوگئے تھے۔
سینٹکام نے بیان میں کہا کہ امریکی فوج کو بڑی کوشش کے بعد مل گئے نامعلوم لاشیں ملی تھیں، جس کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
دوسری جانب کویت کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے شہری اور ملک کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے جہاں ان حملوں میں شدید نقصان پہنچا ہے۔
کویت کی وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل سعود عبدالعزیز نے بتایا کہ ایران کی قابل مذمت جارحیت کے نتیجے میں وزارت بجلی، پانی اور متبادل توانائی کی تنصیبات کو نقصان ہوا ہے۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، لبنان اور دیگر ممالک نے کویت، اردن اور بحرین پر ایرانی حملوں کی مذمت کی۔
اردن نے ایران کے سفارتی نمائندے کو وزارت خارجہ میں طلب کرکے حملوں کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروایا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اردن کی وزارت خارجہ نے عمان میں ایرانی سفارت خانے میں تعینات ناظم الامور کو طلب کرکے ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں پر شدید الفاظ میں احتجاج کا پیغام دیا۔
اردن کے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ وزارت خارجہ نے اس موقع پر ایران کے سرکاری عہدیداروں کی جانب سےاشتعال انگیز اور جارحانہ بیانات کا معاملہ بھی اٹھایا۔
اس سے قبل اسرائیلی فوج نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کی جانب سے اردن کی طرف داغے گئے میزائل ناکارہ بنائے گئے جس کا ملبہ اسرائیلی میں کھلی جگہ میں گرا تھا۔