امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو بطور سیاسی اور اقتصادی دباؤ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کی سرگرمیاں عالمی توانائی کی ٹرانسمیشن اور بین الاقوامی سمندری تجارت میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس ایل این جی کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ لہٰذا یہ عالمی توانائی کی قیمتوں اور سپلائی چین پر نمایاں اثر ڈالنے کی ایک طاقت ہے۔
دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی قومی سلامتی اور فکری تحفظ کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ ایرانی قیادت نے کہا ہے کہ اگر ان کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے تو وہ بھی اس کے خلاف سخت جوابی کارروائی کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحرِ عرب سے ملاتی ہے اور عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگارہ سمجھی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے اس سے متعلق کسی بھی قسم کا بیان رالمی تنازع کی صورت اختیار کرسکتا ہے۔