کراچی: نیا ناظم آباد سے اغوا ہونے والا ڈھائی سالہ اذان گھارو سے بازیاب

سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی مدد سے بچے کی بازیابی ممکن بنائی گئی، پولیس حکام


اسٹاف رپورٹر July 20, 2026

کراچی:

منگھوپیر میں واقع مصروف نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سے 2 روز قبل اغوا ہوئے 2 سالہ کمسن بچے کو ضلع ٹھٹہ گھارو سے بحفاظت بازیاب کرلیا گیا، اغوا کاروں نے بچے کی رہائی کے لیے والد سے 50 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا تھا، بچے کو والدین کے حوالے کردیا گیا۔

ایس ایس پی ویسٹ طارق الہیٰ مستوئی نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ بچے کے اغوا کے بعد پولیس کو واقعے میں ملوث ملزم کی سی سی ٹی وی ملی تھی جس کے بعد تفتیش کا دائرہ بڑھایا گیا اور کمسن بچے کے اغوا مقدمہ درج کیا گیا اورباقاعدہ تفتیش شروع کردی گئی۔

انھوں نے بتایاکہ واقعے کےبعد ضلع ویسٹ کی ٹیکنیکل ٹیم نے کیس پرکام شروع کردیا تھا اسی دوران کمسن بچے کے والد کو تاوان کی کال موصول ہوئی جس نمبرسے تاوان کی کال آئی اس نمبر پر بھی کام کیا گیا، اتوار کی شب ایک اور نمبر سے مغوی بچے کے والد کو کالز آنا شروع ہوئیں، پیرکی صبح پولیس کو مغوی بچے کے والد کی جانب سےکچھ معلومات حاصل ہوئی اورٹیکنیکل ٹیم کوبھی کچھ اورمعلومات ملیں جس پرکام کیا گیا اورمعلوم ہوا کہ جہاں سے فون کالز آ رہی تھی اس کی لوکیشن گھارو ضلع ٹھٹھہ کی ہےجس کے بعد ایک خصوصی ٹیم کو گھارو روانہ کیا گیا۔

ٹیکنیکل ٹیم پہلے سے وہاں موجود تھی انھوں نے بتایا کہ ایس ایس پی ٹھٹھہ سے بھی رابطہ کیا گیا اور مقامی  پولیس کا بھی تعاون حاصل ہوا،  مشترکہ کارروائی کے بعد مغوی بچے اذان کو بازیاب کرالیا گیا۔

ایس ایس پی ویسٹ نے بتایا کہ پولیس کی پہلی ترجیح مغوی بچے کو بحفاظت بازیاب کرانا تھا جس میں پولیس کامیاب ہوئی، کارروائی کے دوران بچے کو اغوا کرنے والے ملزمان گرفتار نہیں ہوئے ہیں اورنہ ہی پولیس یا متاثرہ فیملی کی جانب سے تاوان ادا کیا گیا، اغوا کاروں کی جانب سے 50 لاکھ روپے سے زائد تاوان کا مطالبہ کیا گیا تھا، اغوا میں موٹرسائیکل سوار ملزم سمیت کئی اور ملزمان بھی ملوث ہوسکتے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ کالز کرنے والے ملزمان کی کوئی الگ ٹیم ہو اس پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔

مغوی بچے کے والد وہاب نے میڈیا کو بتایا کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب انہیں تاوان کی کال موصول ہوئی، ملزمان نے کہا کہ 50 لاکھ روپے ادا کرو ورنہ نقصان کے ذمہ دار خود ہوگے، کالز کے بعد ایس ایچ او منگھوپیر اور ایس ڈی پی او منگھوپیر کو آگاہ کیا۔

بچے کے والد نے بتایا کہ صبح انہیں اپنے دوست کی کال آئی کہ تمارا بچہ گھارو میں دیکھا گیا ہے اوراس کے مزدوروں نے بتایا ہے جس کے بعد پولیس کی ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی اور ٹیم ان کے ساتھ گھارو روانہ ہوئی، گھارو جا کرایک گاؤں سے ان کے بیٹے کو بازیاب کرایا گیا، گاؤں میں ایک ہوٹل کے باہر لوگوں نے بچہ انہیں لا کر دیا۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے بیٹے کے اغوا کا واقعہ سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوگیا تھا اس لیے سوشل میڈیا سے بھی کالز آنا شروع ہوگئی تھیں۔

وہاب علی نے بتایا کہ بیٹے کے اغوا ہونے کے بعد گزشتہ دوروز کے دوران سب سے زیادہ نجی سوسائٹی کے رہائشیوں نے ان کا ساتھ دیا وہ ایک فیملی کی طرح ہمارے ساتھ کھڑے رہے، رہائشی سوسائٹی کی انتظامیہ سے درخواست ہے کہ سوسائٹی کی سیکیورٹی کو مزید بہتر کیا جائے اور سی سی ٹی وی کیمروں کو اپ گریڈ کیا جائے۔

مغوی بیٹے کو گود میں لیتے ہی اس کی والدہ جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں  اور بیٹے کو گلے گلا کر روتی رہیں۔

آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی مستوئی، ایس ڈی پی او، ایس ایچ او تھانہ منگھوپیر اور پوری پولیس ٹیم کو معصوم بچے کی بحفاظت بازیابی پر شاباش دی اور پولیس ٹیم کو تعریفی اسناد اور سی سی فرسٹ دینے کا اعلان کیا۔