راولپنڈی میں تعلیمی بورڈ کے اکاؤنٹ سے 52 لاکھ 45 ہزار روپے نکلوانے کی مبینہ کوشش ناکام بنا دی گئی۔ بینک عملے کی مستعدی سے ایک خاتون کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزمہ قرۃ العین تعلیمی بورڈ کے نام پر ڈرافٹ بنوانے کے لیے بینک پہنچی اور اپنے ساتھ تعلیمی بورڈ کا ایک لیٹر بھی لائی۔ بینک عملے نے لیٹر میں رقم کی غلطی کی نشاندہی کرتے ہوئے درستی کروانے کا کہا، جس پر خاتون چند منٹ بعد دوسرا لیٹر لے کر واپس آگئی۔
دوسرے لیٹر پر بینک عملے کو شبہ ہوا جس کے بعد تصدیق کے لیے راولپنڈی تعلیمی بورڈ کی متعلقہ برانچ سے رابطہ کیا گیا۔ تعلیمی بورڈ نے لیٹر کو جعلی قرار دے دیا، جس پر فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی گئی۔
بینک منیجر کامران سعید کی مدعیت میں ملزمہ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا، جس میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 420، 468 اور 471 شامل کی گئی ہیں۔ پولیس نے ملزمہ قرۃ العین، جو ضلع چکوال کی رہائشی بتائی جاتی ہے اسے گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا، جہاں سے اسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔
پولیس واقعے کے دیگر پہلوؤں اور ممکنہ سہولت کاروں کی بھی تحقیقات کر رہی ہے۔