آزاد کشمیر کے انتخابات ابھی تک بروقت ہو رہے ہیں۔ کالعدم ایکشن کمیٹی شدید کوشش کے باوجود آزاد کشمیر کے انتخابات کو ملتوی نہیں کروا سکی ہے۔ اگر آزاد کشمیر کے انتخابات بروقت ہو جاتے ہیں تو یہ کالعدم ایکشن کمیٹی کی ایک سیاسی ہار ہو گی جو ان کی مستقبل کی سیاست کو دفن کر دے گی۔ انتخابات کے بعد نئی اسمبلی اور نئی حکومت آجائے گی، اور نظام کا تسلسل برقرار رہے گا۔ اس لیے ماحول کچھ بھی ہو انتخابات بروقت ہونے چاہیے۔ یہی ریاست کی جیت کا نشان ہے۔
ابھی تک آزاد کشمیر کے انتخابات میں بلاول ہی چھائے ہوئے ہیں۔ پاکستان ن لیگ کی قیادت ابھی کشمیر نہیں پہنچی ہے۔ لیکن گلگت کے انتخابات میں بھی یہی ہوا تھا۔ وہاں بھی انتخابی مہم میں بلاول ہی چھائے ہوئے تھے۔ وہاں بھی ن لیگ کی مرکزی قیادت نہیں گئی۔اس کا ن لیگ کو نقصان بھی ہوا۔ گلگت کی ن لیگ آج بھی کہتی ہے کہ اگر میاں نواز شریف چند دن وہاں مہم چلاتے تو چند سیٹیں مزید نکل آتیں۔ مریم نواز آجاتیں تو اور بہتر ہو جاتا۔ لیکن ن لیگ کی قیادت وہاں نہیں گئی۔ بعد میں خواجہ سعد رفیق بھی شکوے کرتے نظر آئے کہ پارٹی کا کوئی فنڈ بھی نہیں تھا۔ انتخابات کیسے لڑتے۔
اب کشمیر میں بھی ابھی تک یہی صورتحال نظر آرہی ہے۔ بلاول چھائے ہوئے ہیں۔ ن لیگ کی قیادت خاموش بھی ہے غائب بھی ہے اور کوئی انتخابی حکمت عملی بھی نظر نہیں آرہی۔ کسی کی سمجھ میں بھی یہ صورتحال اور سیاسی حکمت عملی نہیں آرہی۔ کونسی قوت ہے جس نے ن لیگ کو انتخابات لڑنے سے روک دیا۔ کس نے انتخابی جلسہ کرنے سے روک دیا۔ کس نے اپنے ووٹ بینک کو متحرک کرنے سے روک دیا ہے۔ کس نے بلاول کے جلسوں کا جواب دینے سے روک دیا ۔ کسی کو ن لیگ کی یہ حکمت عملی سمجھ نہیں آرہی۔
ویسے تو 2024ء کے انتخابات کی مہم میں بھی بلاول نے ن لیگ کے خلاف خوب مہم چلائی تھی ان کا نشانہ شیر تھا۔ وہ بلے یعنی تحریک انصاف کے خلاف کم اور ن لیگ کے خلاف زیادہ بولتے تھے۔ تب بھی ن لیگ نے بلاول کو کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ جب پوچھا جاتا تو وہ کہتے کل کو اکٹھے بیٹھنا ہے، وہ ماحول خراب کر رہا ہے۔ ہم جواب میں خراب نہیں کرنا چاہتے تلخی بڑھ جائے گی۔ اور پھر ہوا بھی ایسے ہی۔ انتخابات کے بعد ن لیگ اور پیپلزپارٹی کو اکٹھے بیٹھنا پڑ گیا اور پیپلزپارٹی خود ہی اتنی تلخی کر چکی تھی کہ وہ حکومت سے باہر بیٹھ گئی۔ بلاول نے ن لیگ کے خلاف اتنی باتیں کر لی ہوئی تھیں کہ کس منہ سے ن لیگ کے ساتھ وزیر بن جاتے۔
لیکن بلاول ایک مستقل حکمت عملی کے تحت ن لیگ کو نشانہ پر رکھ رہے ہیں اور ن لیگ انھیں جواب نہیں دے رہی۔ اب آزاد کشمیر میں بھی یہی صورتحال ہے۔ بلاول کشمیر میں بھی ن لیگ کو نشانہ پر رکھ رہے ہیں اور ن لیگ کوئی جواب نہیں دے رہی۔ آج آزاد کشمیر میں جو بحران ہے وہ کوشش کر رہے ہیں کہ اس کی ساری ذمے داری ن لیگ پر ڈال دی جائے۔ وہ کالعدم ایکشن کمیٹی کی ہمدردیاں بھی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے اور خود کو ساری صورتحال میں معصوم بھی پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن انتخابات ہیں۔ سب جائز ہے۔ جواب تو ان کو دینا ہے جن کو وہ مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ اور اگر ن لیگ ہی جواب میں خاموش ہے، کوئی جواب نہیں دے رہی تو کوئی کیا کر سکتا ہے۔ آزاد کشمیر سے ایک امیدوار سے فون پر بات ہو رہی تھی، وہ اپنی قیادت سے کافی پریشان تھا۔
اس امیدوار کا کہنا تھا کہ سادہ باتوں کا بھی کوئی جواب نہیں دیا جا رہا ہے۔ کیا ن لیگ کی قیادت کو یہ کہنے میں کیا مسئلہ ہے کہ آزاد کشمیر میں آج بھی حکومت پیپلزپارٹی کی ہے۔ وزیر اعظم پیپلزپارٹی کے فیصل راٹھور ہیں، اور بحران کی ذمے دار ن لیگ ہے۔ وہ ایک ٹروتھ کمیشن بنانے کی بات کر رہے ہیں۔ ان کا وزیر اعظم ہے اپنی مرضی کا ٹروتھ کمیشن کیوں نہیں بنا دیتے۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر فوری ٹروتھ کمیشن کا نوٹیفکیشن جاری کر دیں کس نے روکا ہے۔ آزاد کشمیر کا ٹروتھ کمیشن مرکزی حکومت نے تو نہیں بنانا ہے۔ لیکن ن لیگ سے کوئی جواب نہیں دے رہا۔
دھرنے والوں سے کس نے بات کرنی ہے، آزاد کشمیر کی حکومت نے کرنی ہے۔ بلاول اپنے وزیر اعظم کو ساتھ لیں اور دھرنے میں پہنچ جائیں۔ ایکشن کمیٹی کو کالعدم کس نے قرار دیا ہے۔ پیپلزپا رٹی کے وزیر اعظم کے دستخطوں سے انھیں کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ وہ ابھی اپنے وزیر اعظم کو کہیں اور کالعدم کا نوٹیفیکشن ختم کر دیں۔ کالعدم ایکشن کمیٹی کے لوگوں کی گرفتاری پر انعام بھی پیپلزپارٹی کی حکومت نے رکھا ہے۔ پرانے مقدمات بھی بحال پیپلزپارٹی نے کیے ہیں۔ لیکن بلاول اب سب کی ذمے داری ن لیگ پر ڈال رہے ہیں۔ ن لیگ کے لوگ پریشان ہیں کہ سب کچھ کیا ہے، پیپلزپارٹی نے اور بلاول نے سیاسی جلسوں سے ماحول بنا دیا ہے کہ سب کی ذمے دار ن لیگ ہے۔ایک خواجہ آصف کے بیان سے ساری ذمے داری ن لیگ پر ڈال دی گئی ہے۔ اس ساری صورتحال کو ٹھیک کون کرے گا۔ اگر ن لیگ کی یہی پالیسی ہے کہ خاموش رہنا ہے تو نقصان ہوگا۔ خاموشی نقصان دہ ہے۔ ن لیگ سے کوئی تو بولے، کوئی بول ہی نہیں رہا۔ ن لیگ کی خاموشی زہر قاتل بنتی جا رہی ہے۔
یہ درست ہے کہ ن لیگ کالعدم ایکشن کمیٹی کے خلاف ہے اور وہ ان کی سیاسی حمائت نہیں کرنا چاہتی۔ بلاول ان کی سیاسی حمائت کر رہے ہیں۔ بلاول مہاجر سیٹوں کے خلاف ہیں۔ ن لیگ مہاجر سیٹوں کے حق میں ہے۔ اس لیے ن لیگ سیاسی طور پر ایسی کوئی لائن نہیں لینا چاہتی جس کا کالعدم ایکشن کمیٹی کو فائدہ ہو ۔ لیکن ن لیگ کے امیدواران کا موقف ہے کہ عوام کو صورتحال تو بتائی جائے۔ بلاول اور پیپلز پارٹی سب کچھ کر کے بھی معصوم بن کر نکل رہے ہیں ۔ اور ہم نے کچھ کیا بھی نہیں اور ہمیں مجرم بنایا جا رہے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ کون جواب دے گا۔ نواز شریف نے تو2024میں بھی جواب نہیں دیا تھا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انھیں بلاول کو جواب نہیں دینا چاہیے۔ مرکزی حکومت کی اپنی مجبوریاں ہیں۔ پھر آخر میں مریم نواز ہی رہ جاتی ہیں، وہی جواب دے سکتی ہیں۔ انھوں نے ماضی میں جواب دیا بھی ہے۔ لیکن اب وہ سیاسی طور پر خاموش ہیں۔ وہ نہ گلگت گئی ہیں اور نہ ہی کشمیر پہنچی ہے۔ یہ بھی سمجھ سے باہر ہے کیوں ن لیگ کی قیادت انتخابی مہم چلانے سے انکاری ہے۔ ن لیگ کے اپنے لوگوں کے پاس بھی اس صورتحال کا کوئی جواب نہیں ، وہ بھی پریشان ہیں۔ سب قیادت کی طرف دیکھ رہے ہیں اور قیادت غائب ہے۔