نسل کشی سے پہلے یادداشت کشی

بھارت میں سرکاری و نصابی تاریخ بدلنے کا کام لگ بھگ پایہِ تکمیل تک پہنچ گیا ہے۔مغل دور نصاب سے چلتا کر دیا گیا ہے۔


وسعت اللہ خان July 20, 2026

بھارت میں سرکاری و نصابی تاریخ بدلنے کا کام لگ بھگ پایہِ تکمیل تک پہنچ گیا ہے۔مغل دور نصاب سے چلتا کر دیا گیا ہے۔ٹیپو سلطان اب آزادی کے ہیرو نہیں رہے۔بیسیوں چھوٹے بڑے قصبوں اور یادگاروں کے نام بدل دیے گئے ۔( یہ سب کام ہم بہت پہلے کر چکے مگر بھارت اس میدان میں پاکستان کو بھی تیزی سے پیچھے چھوڑ رہا ہے )۔

اب توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر پر ہے۔کیونکہ یہ واحد علاقہ ہے جہاں مسلمان آج بھی اکثریت میں ہیں۔ فی الحال عقیدے کے بجائے ان کی شناخت یعنی کشمیریت پر بھرپور علمی وار ہو رہا ہے۔ایک بار شناخت کمزور ہو جائے تو باقی عمارت ڈھانا بھی آسان ہو جاتا ہے اور اس معاملے میں اسرائیل سب سے بڑا ’’ وشو گرو ‘‘ ہے جس نے ہر وہ شناخت مٹانے کی پوری کوشش کی جس کا تعلق اسرائیل کی پیدائش سے پہلے سے ہے۔اسی تجربے کو اب چیلا (مودی سرکار ) اپنے ڈھنگ سے برت رہا ہے۔

آپ جانتے ہی ہیں کہ پانچ اگست دو ہزار انیس کو مودی سرکار نے مقبوضہ جموں و کشمیر کا نیم ریاستی آئینی وجود بھی ختم کر دیا اور تب سے اب تک بلدیاتی و ریاستی انتخابات کے باوجود پالیسی ساز ادارہ مرکز کا متعین ایڈمنسٹریٹر اور اس کے مشیر ہیں۔پولیس براہ راست ایڈمنسٹریٹر کے کنٹرول میں ہے۔

گذشتہ برس اس خادم نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں پچیس کتابوں پر پابندی کا احوال آپ تک پہنچانے کی کوشش کی تھی۔یہ کتابیں علیحدگی پسندی کے جذبات ابھار کے بھارتی ایکتا اور سالمیت کو خطرے میں ڈالنے کے تدارک میں پابند کی گئیں۔ان میں دیگر کے علاوہ اے جی نورانی ، سمانترا بوس اور ارون دھتی رائے جیسی شخصیات کی وہ کتابیں بھی شامل تھیں جو عرصہ پہلے کشمیر میں نہیں بلکہ دلی اور دیگر شہروں کے ناشروں نے شائع کی تھیں۔مگر یہ پچیس کتابیں ہمسایہ ریاست پنجاب سمیت دیگر بھارتی ریاستوں میں پڑھنا حلال تاہم جموں و کشمیر میں خریدنا ، بیچنا، رکھنا ، پڑھنا حرام قرار پایا۔

اب نو جولائی کو یہ فرمان جاری ہوا کہ جموں و کشمیر کے تمام تعلیمی ادارے اپنے کتابی ذخائر کی چھان پھٹک کر کے ایسی تمام تصنیفات ، رسائیل ، مقالے، ریسرچ تھیسس اور ڈجیٹل مواد خود ضایع کریں یا پھر حکام کے حوالے کر دیں جس میں حقائق مسخ کیے گئے ہوں یا گمراہ کن ، غیر قانونی ، متنفر کرنے والا قابلِ اعتراض مواد ہو یا جسے پڑھ کے قاری متشدد انتہاپسندی ، دھشت گردی ، فرقہ پرستی کو مثبت انداز میں دیکھنے لگے اور پھر دیش کی ایکتا اور سالمیت کے بارے میں کچھ غلط سلط سوچے اور خود بھی گمراہ ہو کر آس پاس والوں کو بھی اکسائے وغیرہ وغیرہ۔

یہ تازہ کریک ڈاؤن تب شروع ہوا جب بی جے پی کے ایک مقامی رہنما سنیل شرما نے دو ماہرینِ تعلیم ہلال احمد اور سنتوش مینا کی کتاب ’’ جموں و کشمیر کی معروف تاریخی شخصیات ‘‘ پر انگشت نمائی کی اور اسے بھارت کے خلاف ’’ زہریلا علمی جہاد ‘‘ قرار دیا۔کتاب میں جموں و کشمیر کے نمایاں سیاستدانوں ، ادیبوں ، مورخوں ، شعرا اور سماجی کارکنوں کا تعارف شامل ہے۔

ان میں مقبول بٹ شہید بھی شامل ہیں جنھیں دلی کی تہار جیل میں پھانسی دے دی گئی تھی۔مسرت عالم بھٹ بھی شامل ہیں جنھوں نے دو ہزار دس کی تحریک میں اہم کردار ادا کیا اور دو ہزار انیس سے جیل میں ہیں۔سید علی شاہ گیلانی بھی ان شخصیات میں شامل ہیں اور ان کے تعارف میں یہ سطر بھی ہے کہ ’’ وہ اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے تحت اس متنازعہ خطے کا سیاسی حل چاہتے تھے ‘‘۔

سرکار نے نہ صرف اس کتاب کو ضبط کر لیا بلکہ ایک اور مصنف سوشانت گری کی دلی سے شائع اسی ٹائٹل ( جموں و کشمیر کی معروف تاریخی شخصیات )  کی کتاب سرکاری فنڈ سے بطور متبادل جموں و کشمیر کی عوامی و تعلیمی لائبریریوں کو فراہم کی۔اس کتاب میں ’’ مثبت سوچ والی محبِ وطن شخصیات ‘‘ کا ذکر ہے۔

ایک کشمیری صحافی نے گمنام رہنے کی شرط میں بتایا کہ اس نئے فرمان کی زد سے بچنے کے لیے میں نے گھر کی چھوٹی سی لائبریری میں موجود انسانی حقوق کی تمام رپورٹیں اور کشمیری تاریخ کی کتابیں محفوظ جگہ منتقل کر دی ہیں۔جانے انھیں کب کون سا کاغذ بھارت دشمن محسوس ہو جائے۔سرینگر کے کتاب فروش بھی گھبرا گئے ہیں کہ کب پولیس ان کی دوکان میں گھس کر کسی بھی کتاب کے بہانے انھیں ’’ تنبو‘‘ کر لے۔

معروف کشمیری صحافی انورادھا بھسین کے بقول ’’ اگر واقعی یہاں امن و امان مثالی ہے تو پھر کتاب اور بم میں فرق مٹانے کی ضرورت کیوں پڑ رہی ہے۔ایسی کون سی کتاب بازار میں بک رہی ہے جسے پڑھتے ہی میں بندوق اٹھا کر نکل پڑوں ‘‘۔

خود انورادھا کی کتاب ’’ معطل ریاست ‘‘ بھی گذشتہ برس کی پچیس ممنوعہ کتابوں میں شامل ہے۔ انورادھا کا کہنا ہے کہ ’’ پولیس اب کیا ہزاروں کتابوں کا ایک ایک ورق پڑھے گی یا پھر اے آئی سے مدد لے گی ؟ اصل بات یہ ہے کہ سرکار کتاب خریدنے اور پڑھنے کی روائیت کو ہی اکھاڑ دینا چاہتی ہے۔تاکہ لوگ بالخصوص نوجوان کشمیر کے مسئلے کے پسِ منظر کو ہی نہ جان سکیں اور اس کے بل پر اپنی کوئی آزادانہ رائے قائم کر سکیں۔اب آپ کو اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی لائبریریوں میں کوئی ایسی کتاب نہیں ملے گی جو منظور شدہ نصاب سے باہر ہو۔اگر قابلِ اعتراض مواد رکھنے کے الزام میں کوئی لائبریرین گرفتار ہوتا ہے تو آیندہ کون سا تعلیمی ادارہ نئی یا پرانی کتابیں خرید کے رکھے گا ؟

سیاسی موضوعات پر لکھنے والی مصنفہ سمانترا بوس کی دو کتابیں بھی گذشتہ برس کی پچیس کالعدم کتابوں میں شامل ہیں۔ان میں سے ایک کتاب ’’ کشمیر اکیسویں صدی میں ‘‘ اور دوسری کتاب ’’ فلسطین ، کشمیر ، بوسنیا ، قبرص اور سری لنکا کا موازنہ ‘‘ ہے۔

سمانترا کا تبصرہ ہے کہ ’’ اگر سرکار کے پاس ضایع کرنے کے لیے اتنا وقت ہے کہ وہ بھوسے کے ڈھیر میں سوئیاں تلاش کرتی پھرے تو ایسی سرکار کے بارے میں مزید کیا کہا جائے۔لگتا ہے کشمیریوں کا مادی تشخص ختم کرنے سے پہلے ان کی ’’ یادداشت کشی‘‘ کا منصوبہ آگے بڑھایا جا رہا ہے۔تاکہ جو کچھ بھی ان کے ساتھ ہو رہا ہے وہ انھیں نارمل لگنے لگے ‘‘۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)