لاہور میں 93 اموات؛ غیر قانونی تعمیرات جاری، حکومتی غفلت پر سنجیدہ سوالات کھڑے ہوگئے

جولائی 2023 سے 13 جولائی 2026 تک لاہور میں مکان اور عمارتیں گرنے کے 254 واقعات رپورٹ ہوئے


آصف محمود July 21, 2026

لاہور:

کاہنہ میں رہائشی مکان کی چھت گرنے کے حالیہ واقعے نے صوبائی دارالحکومت میں غیرقانونی تعمیرات، نگرانی اور سرکاری اداروں کی ذمہ داریوں پر ایک بار پھر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

حادثے کے بعد حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ متاثرہ عمارت کا منظور شدہ نقشہ موجود نہیں تھا اور تعمیر بلڈنگ قوانین کے مطابق نہیں کی گئی تھی، تاہم شہری منصوبہ بندی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عمارت واقعی غیرقانونی تھی تو اس کی تعمیر کے دوران متعلقہ اداروں نے بروقت کارروائی کیوں نہیں کی؟۔

ریسکیو 1122 کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2023 سے 13 جولائی 2026 تک لاہور میں مکانات اور دیگر عمارتیں گرنے کے 254 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 201 رہائشی مکانات شامل تھے۔

ان حادثات میں 586 افراد زخمی جبکہ 93 افراد جان کی بازی ہار گئے، جس سے شہر میں تعمیراتی نگرانی کے نظام کی مؤثریت پر سوالات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔

لاہور میں تعمیرات کی منظوری کا نظام مختلف اداروں کے درمیان تقسیم ہے۔ ایل ڈی اے اپنے دائرہ اختیار میں، کنٹونمنٹ بورڈز اپنے علاقوں میں جبکہ میٹروپولیٹن کارپوریشن دیگر شہری آبادیوں میں عمارتوں کے نقشے منظور کرتی ہے۔

ماہرین کے مطابق کسی بھی تعمیر سے پہلے منظور شدہ نقشہ قانونی تقاضا ہے، جبکہ بعض مخصوص مقامات پر اضافی این او سی بھی درکار ہوتی ہے۔

شہری منصوبہ بندی کے ماہر غافر شہزاد کے مطابق متعلقہ اداروں کی ذمہ داری صرف نقشے منظور کرنا نہیں بلکہ تعمیر کے ہر مرحلے کی نگرانی بھی ہے۔ قانون فیلڈ عملے کو معائنہ، خلاف ورزی پر نوٹس، تعمیر رکوانے، جرمانہ عائد کرنے اور غیرقانونی حصے کو مسمار کرنے کے اختیارات دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی عمارت کئی ماہ یا سال تک غیرقانونی طور پر تعمیر ہوتی رہے اور کارروائی صرف حادثے کے بعد ہو تو یہ نگرانی کے نظام کی ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے۔

تعمیراتی انجینئر حفیظ احمد کہتے ہیں کہ ایک عمارت کی تعمیر میں کئی ماہ لگتے ہیں۔ اگر اس پورے عرصے میں متعلقہ اداروں کو کوئی خلاف ورزی نظر نہ آئے اور حادثے کے بعد صرف غیرقانونی تعمیر کا اعلان کیا جائے تو متعلقہ افسران کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق لاہور کی پرانی آبادیوں، جن میں کاہنہ، شاہدرہ، مزنگ، اچھرہ، باغبانپورہ، سبزہ زار اور دروغہ والا سمیت دیگر علاقے شامل ہیں، میں ہزاروں مکانات ایسے ہیں جو موجودہ بلڈنگ قوانین سے پہلے تعمیر ہوئے۔ ان میں سے متعدد کے منظور شدہ نقشے موجود نہیں جبکہ کئی گھروں میں وقت کے ساتھ اضافی منزلیں بھی تعمیر کی گئیں، مگر باقاعدہ منظوری حاصل نہیں کی گئی۔

غافر شہزاد کے مطابق ایسے تمام مکانات کو غیرقانونی قرار دینا عملی طور پر ممکن نہیں، اس لیے مرحلہ وار سروے، ریگولرائزیشن پالیسی اور ایک خودمختار بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا قیام وقت کی ضرورت ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ جدید شہروں کی طرح ہر عمارت کا ڈیجیٹل ریکارڈ، باقاعدہ معائنہ اور خطرناک عمارتوں کی بروقت نشاندہی ہی مؤثر حل ثابت ہو سکتی ہے۔

ماہرین یہ بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی اندرون شہر کی تاریخی عمارتوں کا جامع ڈیجیٹل سروے اور دستاویز بندی مکمل کر چکی ہے، تاہم تقریباً ڈیڑھ کروڑ آبادی والے باقی لاہور میں ایسا کوئی مربوط ریکارڈ موجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جی آئی ایس میپنگ، آن لائن نقشہ منظوری، ڈیجیٹل رجسٹریشن اور مؤثر فیلڈ انسپیکشن کے ذریعے نہ صرف غیرقانونی بلکہ خستہ حال عمارتوں کی بھی بروقت نشاندہی کی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر لاہور کے مطابق شہر بھر میں غیرقانونی اور خطرناک تعمیرات کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور نقشے کی خلاف ورزی کرنے والی متعدد عمارتوں کو جزوی یا مکمل طور پر مسمار کیا جا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تعمیراتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد جاری رکھا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق مستقل حل صرف حادثات کے بعد ذمہ داریاں طے کرنے میں نہیں بلکہ تعمیراتی نظام میں بنیادی اصلاحات، شفاف منظوری، مؤثر نگرانی، مرحلہ وار ڈیجیٹل سروے، پرانی آبادیوں کی ریگولرائزیشن اور قانون پر یکساں عملدرآمد کو یقینی بنانے میں ہے۔