ایران اور امریکا کے درمیان جاری فوجی کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے، امریکا کی جانب سے مسلسل دسویں رات بھی ایران پر فضائی حملوں کے بعد ایران نے خلیجی خطے میں متعدد مقامات پر جوابی کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکروں میں آگ لگنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن، بحرین اور کویت میں موجود امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی اور متعلقہ ممالک یا امریکی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ تصدیق جاری نہیں کی گئی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکروں میں بھی بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی ہے۔ اگرچہ آگ لگنے کی وجہ اور نقصان کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، تاہم اس واقعے نے عالمی توانائی منڈی میں نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔
دوسری جانب یمن کی حوثی تحریک نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ سعودی بحری راستوں کو نشانہ بنا سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس اعلان سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی سپلائی مزید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی فوجیوں پر حملے جاری رہے تو ایران کو اس کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانا پڑے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران کم از کم تین امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں، جن کے ذمہ داروں کو جوابدہ بنایا جائے گا۔
ادھر لبنان کی فوج نے بھی اعلان کیا ہے کہ اس کے دستے جنوبی قصبے زاوتر الغربیہ میں تعینات ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ یہ پیش رفت اسرائیلی فوج کے اس علاقے سے انخلا کے بعد سامنے آئی ہے، جو امریکا کی ثالثی میں ہونے والے ایک معاہدے کا حصہ بتایا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی خطے میں جاری یہ کشیدگی نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ عالمی توانائی کی ترسیل، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔