نیشنل جوڈیشل ریفارم فریم ورک کی اصولی طور پر منظوری دے دی گئی

فریم ورک کا مقصد پاکستان میں شواہد پر مبنی عدالتی اصلاحات کو فروغ دینا ہے


ویب ڈیسک July 21, 2026

اسلام آباد:

چیف جسٹس آف پاکستان کی زیرِ صدارت قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا 61واں اجلاس سپریم کورٹ میں منعقد ہوا جس میں اصولی طور پر نیشنل جوڈیشل ریفارم فریم ورک کی منظوری دے دی گئی۔

نیشنل جوڈیشل ریفارم فریم ورک کو ورلڈ جسٹس پراجیکٹ رول آف لا انڈیکس سے ہم آہنگ کیا گیا ہے۔

فریم ورک کا مقصد پاکستان میں شواہد پر مبنی عدالتی اصلاحات کو فروغ دینا ہے جبکہ فریم ورک کے ذریعے انصاف تک رسائی، شفافیت اور پیش گوئی کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ فریم ورک میں قابلِ پیمائش کارکردگی کے معیارات اور بین الاقوامی معیار شامل کیے گئے ہیں۔

اجلاس میں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر قانون و انصاف اور سیکرٹری وزارتِ قانون و انصاف نے خصوصی دعوت پر اجلاس میں شرکت کی جبکہ پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نمائندے بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

ہائی کورٹس نیشنل جوڈیشل ریفارم فریم ورک اور انٹرنیشنل فریم ورک فار کورٹ ایکسیلینس کی ’’سیلف اسسمنٹ چیک لسٹ اختیار کر سکیں گی۔ ہائی کورٹس اصلاحاتی پیش رفت کا سہ ماہی جائزہ اور رپورٹنگ کا مؤثر نظام قائم کریں گی۔

لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان اور وزارتِ قانون و انصاف فریم ورک پر عمل درآمد کے لیے خصوصی سیل قائم کریں گے۔ فریم ورک پر عمل درآمد سے متعلق پیش رفت کا جائزہ 8 اکتوبر 2026 کے اجلاس میں لیا جائے گا۔

لا اینڈ جسٹس کمیشن سیکرٹریٹ رول آف لاء اشاریوں کی نشاندہی اور توثیق کرے گا جبکہ رول آف لا اشاریے مرحلہ وار نیشنل جوڈیشل اینالیٹکس ڈیش بورڈ میں شامل کیے جائیں گے۔ لا اینڈ جسٹس کمیشن سیکرٹریٹ این آئی ٹی بی کے تعاون سے پیش رفت کی نگرانی کے لیے خصوصی ٹیکنالوجی پلیٹ فارم تیار کرے گا۔

خصوصی پلیٹ فارم کے ذریعے اصلاحات سے متعلق باقاعدہ پیش رفت رپورٹس تیار کی جائیں گی، لا اینڈ جسٹس کمیشن سیکرٹریٹ استعدادِ کار میں اضافے کے اقدامات کو بھی مربوط کرے گا اور پاکستان کی ورلڈ جسٹس پراجیکٹ رول آف لا انڈیکس میں سالانہ کارکردگی کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔ سالانہ جائزے میں ادارہ جاتی مضبوطیوں، خامیوں اور مزید اصلاحات کی سفارشات شامل ہوں گی۔

این جے پی ایم سی کے مطابق عدالتی اصلاحات کو شواہد، قابلِ پیمائش نتائج اور بین الاقوامی معیارات کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے گا، شواہد پر مبنی اصلاحات سے ادارہ جاتی کارکردگی اور عوامی اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔

اجلاس میں جبری گمشدگیوں سے متعلق مجوزہ کمیشن پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وفاقی وزیر قانون و انصاف نے مجوزہ کمیشن سے متعلق پیش رفت پر بریفنگ دی۔

وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ مجوزہ کمیشن کی سربراہی کے لیے سپریم کورٹ کے سابق ججز کے نام زیرِ غور ہیں، مجوزہ کمیشن کی تشکیل اور قواعدِ کار جلد مکمل کیے جائیں گے۔

قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے حکومتی اقدامات کو سراہا۔

این جے پی ایم سی نے گرفتار افراد کو مقررہ مدت کے اندر مجاز عدالت میں پیش کرنے کی قانونی شرط پر سختی سے عمل درآمد پر زور دیا۔ قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے عدالتی اصلاحات، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور انصاف تک رسائی کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔

این جے پی ایم سی کے مطابق جدت، شواہد پر مبنی طرزِ حکمرانی اور ٹیکنالوجی کے ذریعے نظامِ انصاف کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔