واشنگٹن: لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا صرف اسی صورت ممکن ہے جب اسرائیل جنوبی لبنان سے مکمل انخلا کرے، لبنانی فوج پورے ملک پر اپنی عملداری قائم کرے اور تعمیرِ نو کا عمل مکمل طور پر ریاست کی نگرانی میں انجام دیا جائے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر جوزف عون نے یہ بات امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں لبنان کی امریکا میں سفیر ندا حمادہ معوض کی جانب سے اپنے اعزاز میں دی گئی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
تقریب میں امریکی کانگریس کے ارکان، ٹرمپ انتظامیہ کے حکام اور دیگر اعلیٰ شخصیات بھی شریک تھیں۔
لبنانی ایوانِ صدر کے جاری کردہ بیان کے مطابق جوزف عون نے کہا کہ لبنان کا ماڈل نہ صرف خود لبنان بلکہ پورے خطے کے لیے اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان بقائے باہمی اور ریاستی اداروں کی بنیاد پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر عالمی برادری واقعی حزب اللہ کے ہتھیاروں کا مسئلہ حل کرنا چاہتی ہے تو سب سے پہلے جنوبی لبنان سے اسرائیلی قبضہ ختم ہونا چاہیے، اس کے بعد لبنانی فوج کو ملک کے ہر حصے میں مکمل اختیار ملنا چاہیے اور تعمیرِ نو کا تمام عمل صرف ریاست کے ذریعے انجام پانا چاہیے۔
صدر عون کے مطابق ان بنیادی اقدامات کے بغیر حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی کوئی بھی کوشش عملی طور پر کامیاب نہیں ہو سکتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق لبنانی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور حزب اللہ کے مستقبل، جنوبی لبنان کی سکیورٹی اور جنگ بندی کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر مختلف سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان کی صورتحال اور حزب اللہ کے ہتھیاروں کا معاملہ مشرق وسطیٰ کے امن و استحکام کے لیے اہم چیلنجز میں شمار ہوتا ہے، جس کے حل کے لیے سفارتی پیش رفت ناگزیر ہے۔