کراچی:
نجی سوسائٹی سے 2 سالہ بچے کے اغوا برائے تاوان کے کیس میں عدالت نے ملزمان کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔
منگھوپیر کی نجی سوسائٹی سے 2 سالہ اذان کے اغوا برائے تاوان کے مقدمے میں گرفتار 3 ملزمان کو سخت سیکیورٹی میں عقبی راستے سے عدالت پہنچایا گیا، جہاں انہیں چہرے ڈھانپ کر پیش کیا گیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ غربی فدا حسین نے مقدمے کی سماعت بند کمرے میں کی۔
سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ مرکزی ملزم احتشام مدعی مقدمہ کا دوست ہے، جبکہ شریک ملزم عبدالوہاب مرکزی ملزم کا برادر نسبتی ہے۔
تفتیشی افسر کے مطابق شریک ملزم افتخار نے ملزمان کو گھارو میں سہولت کاری فراہم کی تھی، اس لیے مزید تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔ عدالت نے ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
بعد ازاں عدالت نے فیصلہ جاری کرتے ہوئے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں کمسن بچے کے اغوا برائے تاوان کے مقدمے میں ملزمان کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان میں احتشام اور اس کے دو سہولت کار عبدالحسن اور افتخار شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق ملزم احتشام بچے کے والد کا دوست ہے اور بچے کی تلاش کے دوران خود بھی اہل خانہ کے ساتھ شریک رہا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے اپنے سالے اور اس کے دوست کی مدد سے اغوا کا ڈرامہ رچایا تھا۔ کمسن اذان کو بعد ازاں گھارو کے علاقے سے بازیاب کرایا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق ملزم احتشام نے بیرون ملک اپنے ایک دوست کے واٹس ایپ نمبر سے بچے کے والد سے 50 لاکھ روپے تاوان طلب کیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے 18 جولائی کو نیا ناظم آباد میں بچے کو اس کے گھر کے باہر سے اغوا کیا تھا، جبکہ واقعے کا مقدمہ تھانہ منگھوپیر میں درج کیا گیا تھا۔