اگرچہ کئی ممالک میں پیٹرول، پینٹ اور صنعتی اخراج میں سیسے کے استعمال میں نمایاں کمی کی جا چکی ہے، مگر ماہرین کے مطابق بچوں کے لیے اس کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔
پرانے گھروں کی دیواروں پر موجود لیڈ والے پینٹ، آلودہ گرد و غبار، مٹی، سیسے کی پائپ لائنوں کے پانی اور پرانے یا درآمد شدہ کھلونوں کے زریعے سے بچوں میں سیسا داخل ہو سکتا ہے۔
کیا سیسے کی کوئی محفوظ مقدار موجود ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کے لیے سیسے کی کوئی بھی مقدار محفوظ نہیں۔ معمولی مقدار بھی بچوں کی ذہنی صلاحیت، سیکھنے کی استعداد اور دماغی نشوونما پر دیرپا منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے، اسی لیے کسی بھی بلند لیڈ لیول کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
لیڈ پوائزننگ کی علامات کیا ہیں؟
ابتدائی مرحلے میں اکثر بچوں میں کوئی واضح علامات ظاہر نہیں ہوتیں، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ سر درد، پیٹ درد، قبض، بھوک میں کمی، چڑچڑاپن، سستی اور بے چینی جیسی شکایات سامنے آسکتی ہیں۔
شدید صورت میں الٹی، غنودگی، بے ہوشی اور دورے پڑ سکتے ہیں، جسے طبی ایمرجنسی تصور کیا جاتا ہے اور فوری علاج ضروری ہوتا ہے۔
بچوں کی صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟
ماہرین کے مطابق سیسے کی نمائش بچوں کی ذہنی نشوونما، یادداشت، توجہ، سیکھنے کی صلاحیت اور رویے کو متاثر کر سکتی ہے۔ بعض بچوں میں سماعت اور توازن کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق یہ مسئلہ مستقبل میں تعلیمی کارکردگی اور رویے پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
اس کے علاوہ سیسہ گردوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جسم میں آئرن اور وٹامن ڈی کے استعمال میں رکاوٹ بنتا ہے، بچوں کی جسمانی نشوونما متاثر کر سکتا ہے اور بڑی عمر میں بلند فشارِ خون (ہائی بلڈ پریشر) کے خطرے میں بھی اضافہ کر سکتا ہے۔
والدین کیا احتیاط کریں؟
ماہرین والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ بچوں کو پرانے یا غیر معیاری کھلونوں سے دور رکھیں، گھر کی باقاعدگی سے صفائی کریں تاکہ گرد و غبار جمع نہ ہو، بچوں کو کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کی عادت ڈالیں اور اگر سیسے کے خطرے کا شبہ ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت احتیاط اور آگاہی بچوں کو لیڈ پوائزننگ جیسے خاموش مگر خطرناک مسئلے سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔