جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم لاہور میں انتقال کرگئے۔
جماعت اسلامی پاکستان کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں بتایا گیا کہ قیم جماعت اسلامی پاکستان امیرالعظیم صاحب اللہ کے حضور پیش ہوگئے۔
سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی امیر العظیم طویل عرصے سے علیل اور کینسر کے مرض سے نبرد آزما تھے۔
امیرالعظیم کی نماز جنازہ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
امیرالعظم جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل کے علاوہ زمانہ طالب علمی میں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ بھی رہے۔
لاہور میں 1958 میں پیدا ہونے والے امیرالعظیم نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی اور اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلی رہے۔
جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر سراج الحق نے انہیں 2019 اور 2024 میں موجودہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے مرکزی مجلس شوریٰ کے مشورے سے انہیں مرکزی سیکریٹری جنرل مقرر کیا، اس سے قبل طویل عرصے تک جماعت اسلامی کے سیکریٹری اطلاعات بھی رہے۔
امیرالعظیم کا تعلیمی و سیاسی سفر
امیر العظیم کی اسکول کے دور میں ہی اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستگی ہوئی بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی طلبہ یونین کے منتخب صدر رہے، جنرل ضیا الحق کے دور میں طلبہ یونین کی بحالی کے لیے لانگ مارچ کیا اور اس تحریک کے دوران جیل کی کٹھن صعوبتیں برداشت کیں اور جیل میں قید تھے جب انہیں اسلامی جمعیت طلبہ کا ناظم اعلیٰ منتخب کیا گیا۔
جماعت اسلامی لاہور اور جماعت اسلامی وسطی پنجاب کے امیر کے طور پر بھی تنظیمی خدمات سرانجام دیں اور طویل عرصے تک جماعت اسلامی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات کے عہدے پر فائز رہے اور 2019میں اس وقت کے امیر جماعت سراج الحق نے امیر العظیم کو جماعت اسلامی پاکستان کا مرکزی سیکریٹری جنرل مقرر کیا۔
انہوں نے عدلیہ بحالی کے لیے چلنے والی تاریخی وکلا تحریک میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا، چیف جسٹس بحالی لانگ مارچ کے دوران سر پر آنسو گیس کا شیل لگنے سے شدید زخمی ہوئے، شیل لگنے کا نشان آج بھی امیر العظیم کے ماتھے پر نمایاں تھا۔
امیر العظیم نے 2002 کے ضمنی الیکشن میں لاہور سے متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے صوبائی نشست پر حصہ لیا، جان دار انتخابی مہم سے متاثر ہو کر مسلم لیگ (ن) نے اپنا امیدوار امیرالعظیم کے حق میں دستبردار کر لیا تھا مگر دور آمریت میں بدترین حکومتی دھاندلی کے ذریعے امیرالعظیم کی واضح جیت کو شکست میں بدل دیا گیا۔
امیر العظیم نے فیوچر وژن کمیونیکیشن کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر بھی کام کیا، سیاسی، سماجی اور صحافتی حلقوں میں اپنی نرم گوئی اور بہترین تعلقات کی وجہ سے ممتاز مقام رکھتے تھے اور جماعت اسلامی کے بہترین منتظم اور مربی تھے، فکری خطابات سے کارکنان نے رہنمائی حاصل کی۔