ایران معاہدے کیلئے ہم سے بھیک مانگ رہا ہے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

تہران کے اقدامات سے ایسا نہیں لگتا کہ وہ کسی معاہدے کے لیے سنجیدہ ہے، امریکی وزیر خارجہ


ویب ڈیسک July 23, 2026

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران مذاکرات اور معاہدے کے لیے سنجیدہ نہیں ہوتا تو اسے اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے متعدد بار رابطہ کیا ہے اور وہ معاہدے کیلئے بھیک مانگ رہا ہے۔ امریکا سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کرنا چاہتا، تاہم ایران کو اپنی موجودہ پالیسی تبدیل کرنا ہوگی۔

فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا اب بھی ایران کے ساتھ بات چیت اور سفارتی حل کے لیے تیار ہے، لیکن تہران کے اقدامات سے ایسا نہیں لگتا کہ وہ کسی معاہدے کے لیے سنجیدہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران ہر رات اپنی کارروائیوں کی وجہ سے بڑھتی ہوئی قیمت ادا کر رہا ہے اور یہ صورتحال اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ایران اپنے رویے میں تبدیلی نہیں لاتا۔ ان کے مطابق اگر ایران واقعی مذاکرات چاہتا ہے تو امریکا بھی بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن اگر ایسا نہیں ہوا تو واشنگٹن اپنے مفادات اور اپنے اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔

مارکو روبیو نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ عالمی بحری جہاز رانی میں رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے اور آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملے یا ان کی نقل و حرکت محدود کرنے کی کوششیں ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران عالمی بحری تجارت کو نشانہ بناتا رہا تو اسے اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔

امریکی وزیر خارجہ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران بار بار معاہدے کرتا ہے لیکن بعد میں خود ہی ان سے پیچھے ہٹ جاتا ہے، اسی لیے عالمی برادری کو ایران کے اقدامات کا عملی جائزہ لینا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کو امید ہے کہ یمن کے حوثی بحری جہازوں پر حملے بند کر دیں گے، کیونکہ ان حملوں سے عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔

مارکو روبیو نے اپنی گفتگو میں جنوبی بحیرۂ چین کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں تشویشناک ہیں اور امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے کام کرتا رہے گا۔

ان کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، جبکہ آبنائے ہرمز، بحیرۂ احمر اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔