کراچی:
سندھ حکومت نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور صوبے کی بنجر زرعی زمینوں کی بحالی کے لیے بڑا اقدام کیا ہے۔
صوبائی محکمہ زراعت نے بینظیر ہاری کارڈ کے تحت رجسٹرڈ ساڑھے 3 لاکھ کسانوں تک بائیوچار منصوبہ متعارف کرانے پر غور شروع کردیا ہے۔ بائیو چار زرعی باقیات، لکڑی اور دیگر نامیاتی مواد سے تیار کیا جانے والا ایک قدرتی مادہ ہے، جسے مٹی میں شامل کرنےسےزمین کی زرخیزی، پانی محفوظ رکھنے کی صلاحیت اور فصلوں کی پیداوار بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔
وزیر زراعت سردار محمد بخش مہر کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا، جس میں صوبائی وزرا جام خان شورو،ذوالفقار شاہ، سیکریٹری زراعت محمد زمان ناریجو، سندھ آبادگار بورڈ کے صدر محمود نواز شاہ و دیگر نے شرکت کی۔
اجلاس میں انڈس بائیوچار کے چیئرمین خرم ارشاد، چیف فنانشل آفیسر شکیل الیاس اور منیجر آپریشنز عبدالوہاب عیسانی نے بھی شرکت کی ۔ اجلاس میں سندھ کی بنجر اور متاثرہ زرعی زمینوں کی بحالی کے لیے بائیوچار کے استعمال پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں بینظیر ہاری کارڈ پروگرام کے تحت رجسٹرڈ ساڑھے3 لاکھ کسانوں کواس منصوبے سےمنسلک کرنے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
صوبائی وزرا کو اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ بائیوچار سے زمین کی زرخیزی، نامیاتی مادے اور پانی محفوظ رکھنے کی صلاحیت میں اضافہ ممکن ہے۔
اس موقع پر وزیر زراعت سندھ سردار محمد بخش مہر نے کہا کہ بائیوچار شدید گرمی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے فصلوں کے تحفظ میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ بائیوچار کے استعمال سے کیمیائی کھادوں پر انحصار کم اور مجموعی زرعی پیداوار میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
اجلاس میں لینڈ آئی کیو نے پانی کے بہتر انتظام اور زیرزمین پانی کی بحالی کے لیے اپنی تکنیکی مہارت سے آگاہ کیا جب کہ چیئرمین خرم ارشاد نے زیر زمین پانی کی بحالی سے متعلق مختلف تکنیکی تجاویز پیش کیں۔
لینڈ آئی کیو کی جانب سے سمندری کھارے پانی کی دراندازی روکنے کے لیے اپنی تکنیکی صلاحیتوں پر بریفنگ دی گئی۔ وزیر زراعت سندھ سردار محمد بخش مہر نے انڈس بائیوچار کی تجاویز کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت، نجی شعبے اور ترقیاتی اداروں کا اشتراک زرعی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ باہمی تعاون سے سندھ کے زرعی شعبے کو جدید اور پائیدار بنایا جا سکتا ہے۔