کیا آپ اپنی عمر 20 سال بڑھانا چاہتے ہیں؟ طرزِ زندگی میں صرف آٹھ تبدیلیاں اپنائیں

صحت مند طرزِ زندگی اپنانے سے زندگی میں 20 سال سے زائد کا اضافہ ممکن ہو سکتا ہے


ویب ڈیسک July 25, 2026
فطری طرز عمل اختیار کر کے بیماریوں سے نجات ممکن ہے۔ فوٹو: فائل

اگر آپ لمبی، صحت مند اور بھرپور زندگی گزارنے کے خواہش مند ہیں تو اچھی خبر یہ ہے کہ روزمرہ زندگی میں چند سادہ مگر مستقل تبدیلیاں آپ کی متوقع عمر میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہیں۔

ایک نئی امریکی تحقیق کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی اپنانے سے زندگی میں 20 سال سے زائد کا اضافہ ممکن ہو سکتا ہے، اور اس کے لیے ضروری نہیں کہ آپ نوجوانی ہی سے یہ عادات اختیار کریں۔

ماہرین کے مطابق اگر کوئی شخص اپنی 40، 50 یا حتیٰ کہ 60 برس کی عمر میں بھی بہتر طرزِ زندگی اپنانے کا فیصلہ کرے تو اس کے مثبت اثرات صحت اور عمر دونوں پر نمایاں طور پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ تحقیق کے سربراہ ہیلتھ سائنس کے ماہر ژوان مائی ٹی گوئن کا کہنا ہے کہ صحت بخش عادات نہ صرف انفرادی تندرستی کو بہتر بناتی ہیں بلکہ مجموعی عوامی صحت میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ تمباکو نوشی اور منشیات کا استعمال قبل از وقت موت کے خطرے کو 30 سے 45 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔ اسی طرح مسلسل ذہنی دباؤ، ناکافی نیند، غیر متوازن غذا اور شراب نوشی بھی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتے ہوئے موت کے امکانات میں تقریباً 20 فیصد اضافہ کر سکتے ہیں۔

محققین کے مطابق جن مردوں اور خواتین نے صحت مند طرزِ زندگی کے آٹھ بنیادی اصولوں پر عمل کیا، وہ 40 سال کی عمر سے اپنی متوقع زندگی میں بالترتیب تقریباً 23 اور 22 سال تک اضافہ حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

متوازن اور صحت بخش غذا

ماہرین کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک کو معمول بنائیں۔ روزانہ تازہ پھل، سبزیاں، ثابت اناج، دالیں اور پروٹین سے بھرپور غذائیں جسم کو ضروری توانائی فراہم کرتی ہیں، قوتِ مدافعت مضبوط بناتی ہیں اور دل سمیت کئی بیماریوں سے تحفظ دیتی ہیں۔

تمباکو نوشی سے پرہیز

سگریٹ اور دیگر تمباکو مصنوعات سے مکمل پرہیز بھی لمبی عمر کے لیے نہایت اہم ہے۔ تمباکو نوشی پھیپھڑوں، دل اور خون کی شریانوں کو شدید نقصان پہنچاتی ہے، جبکہ اسے ترک کرنے سے صحت میں بتدریج واضح بہتری آنا شروع ہو جاتی ہے۔

بھرپور اور معیاری نیند

بھرپور اور معیاری نیند کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق روزانہ مناسب دورانیے کی نیند دماغی کارکردگی بہتر بنانے، جسمانی تھکن دور کرنے، ہارمونز کے توازن کو برقرار رکھنے اور مختلف بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

جسمانی سرگرمیاں

روزمرہ جسمانی سرگرمی کو بھی زندگی کا حصہ بنانا ضروری ہے۔ تیز چہل قدمی، سائیکل چلانا، تیراکی، ورزش یا کسی بھی قسم کی جسمانی مشقت دل کو مضبوط، وزن کو متوازن اور جسم کو توانا رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

مراقبہ اور یوگا

تحقیق میں ذہنی دباؤ پر قابو پانے کو بھی لمبی عمر کا اہم راز قرار دیا گیا ہے۔ مراقبہ، گہری سانس لینے کی مشقیں، پسندیدہ مشاغل اور اہلِ خانہ یا دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا ذہنی سکون میں اضافہ کرتا ہے اور جسم پر منفی اثرات کم کرتا ہے۔

شراب نوشی سے گریز

ماہرین شراب نوشی سے گریز کرنے کا بھی مشورہ دیتے ہیں کیونکہ اس کا زیادہ استعمال جگر، دل اور دماغ سمیت کئی اعضا کو متاثر کر سکتا ہے، جبکہ مکمل پرہیز صحت مند زندگی گزارنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

اسی طرح ہر قسم کی نشہ آور اشیا سے دور رہنا بھی نہایت ضروری ہے۔ یہ عادات نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں اور زندگی کے معیار کو بری طرح متاثر کر سکتی ہیں۔

مثبت سماجی تعلقات

تحقیق میں مثبت سماجی تعلقات کو بھی لمبی عمر کے اہم عوامل میں شامل کیا گیا ہے۔ خاندان، دوستوں اور معاشرے کے ساتھ مضبوط روابط ذہنی خوشی، جذباتی استحکام اور مجموعی صحت کو بہتر بناتے ہیں، جس کے نتیجے میں انسان زیادہ مطمئن اور طویل زندگی گزار سکتا ہے۔