فیشن یا تاریخی ورثہ؟ زینڈایا پر 2 ہزار سال قدیم ایرانی بالیاں پہننے پر شدید تنقید

ماہرین آثارِ قدیمہ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ سے وابستہ شخصیات نے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا


ویب ڈیسک July 24, 2026

ہالی ووڈ اداکارہ زینڈایا ایک بار پھر اپنے منفرد فیشن اسٹائل کی وجہ سے خبروں کی زینت بن گئی ہیں، تاہم اس مرتبہ ان کا لباس نہیں بلکہ ان کے کانوں میں پہنی گئی دو ہزار سال سے بھی زیادہ قدیم ایرانی بالیاں عالمی بحث کا موضوع بن گئی ہیں۔

فلم ’دی اوڈیسی‘ کی لندن پروموشن کے دوران زینڈایا نے ایسے سونے کے جھمکے پہنے جنہیں ماہرین قدیم ایرانی تہذیب کے نادر آثار میں شمار کرتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق یہ طلائی زیورات ایران کے تاریخی زیویہ خزانے (Ziwiye Hoard) سے منسوب ہیں، جس کا تعلق پہلی ہزار سال قبل مسیح سے جوڑا جاتا ہے۔ لندن کی آرٹ گیلری بیرون نے یہ بالیاں فراہم کیں، جبکہ معروف جیولر گلین اسپائرو نے ان قدیم سونے کے ٹکڑوں کو ہیروں کے ساتھ جدید انداز میں تیار کیا۔ گلین اسپائرو کا کہنا تھا کہ ہزاروں برس پرانے تاریخی نوادرات کو جدید انداز میں پہننا انہیں آج کے دور میں بھی پرکشش اور منفرد بناتا ہے۔

اگرچہ زینڈایا کے اس انداز نے فیشن شائقین کو متاثر کیا، لیکن ماہرین آثارِ قدیمہ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ سے وابستہ شخصیات نے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق ہزاروں سال پرانے تاریخی نوادرات کو محض لگژری جیولری کے طور پر استعمال کرنا ان کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کو کم کر دیتا ہے۔ بعض ماہرین نے ان زیورات کی اصل تاریخ اور ان کے ماخذ پر بھی سوالات اٹھائے۔

قدیم تاریخ کی ماہر ڈاکٹر کارلا آئیونیسکو نے لکھا کہ انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ اصل تاریخی نوادرات کسی ریڈ کارپٹ پر فیشن کے طور پر استعمال کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عجائب گھروں اور آثارِ قدیمہ کی جگہوں پر سب سے پہلے یہی سکھایا جاتا ہے کہ ایسی اشیا کو ہاتھ تک نہیں لگایا جاتا، جبکہ اب وہی چیزیں زیورات کی صورت میں پہنی جا رہی ہیں۔

اسی طرح آسٹریلیا کی میکوری یونیورسٹی کے تاریخ اور آثارِ قدیمہ کے پروفیسر پیٹر ایڈویل نے بھی نشاندہی کی کہ زیویہ خزانے سے منسلک کئی نوادرات کی اصل تاریخ اور ملکیت کے بارے میں اب بھی مکمل یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا، اس لیے ان کی تاریخی حیثیت کی تصدیق ایک بڑا سوال ہے۔

حالیہ برسوں میں ہالی ووڈ میں فلموں کی تشہیر کے دوران کردار یا کہانی سے مطابقت رکھنے والے ملبوسات اور نادر تاریخی زیورات پہننے کا رجحان تیزی سے بڑھا ہے، جسے ’میتھڈ ڈریسنگ‘ کہا جاتا ہے۔ زینڈایا کی ساتھی اداکارہ این ہیتھ وے بھی اسی فلم کی تشہیری مہم میں ایک ایسی گھڑی پہن چکی ہیں جس میں قدیم رومی سکے کو شامل کیا گیا تھا، جبکہ مارگو روبی نے رواں برس فلم وتھرنگ ہائٹس کے پریمیئر پر الزبتھ ٹیلر کی ملکیت میں رہنے والا تاریخی تاج محل ڈائمنڈ نیکلس پہن کر توجہ حاصل کی تھی۔

دوسری جانب یہ زیورات فراہم کرنے والی گیلری بیرون کا مؤقف ہے کہ ان کا مقصد ایران کے قدیم فن اور تاریخی ورثے کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا ایران کو زیادہ تر موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں دیکھتی ہے۔

زینڈایا کی ان بالیوں نے ایک مرتبہ پھر اس سوال کو زندہ کر دیا ہے کہ ہزاروں سال پرانے تاریخی نوادرات کا اصل مقام کہاں ہونا چاہیے؛ عجائب گھروں میں، نجی کلیکشنز میں یا پھر عالمی شہرت یافتہ شخصیات کے ریڈ کارپٹ فیشن کا حصہ بن کر؟