مولانا صاحب! یہ مثال درست نہیں

؎ اے وطن تو نے پکارا تو لہو کھول اٹھا  تیرے بیٹے تیرے جانباز چلے آتے ہیں


[email protected]

مولانا فضل الرحمن صاحب کا میں دلی احترام کرتا ہوں۔وہ اس ملک کے انتہائی تجربہ کار، زیرک، معاملہ فہم اور جرات مند قومی راہنما ہیں اور اس لحاظ سے ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں۔چند روز پہلے انھوں نے ایک سیاسی جلسے میں غصے کی حالت میں ایک بات کہہ دی تھی جس میں شہدا کا بھی ذکر تھا، جس پر ان کے خلاف کردار کُشی اور ذاتی حملوں کا طوفان برپا کر دیا گیا، میں نے اس وقت بھی لکھا تھا کہ ملک کا دفاع کرنے والے پاک افواج اور پولیس کے شہداء کے مقدس خون کی ایک بوند کا بھی احسان نہیں چکایا جا سکتا۔شہداء کے خون کو تنخواہ اور مراعات میں کسی صورت نہیں تولا جا سکتا، شہداء ہمارے عظیم محسن ہیں ہم ان کے احسان کا بدلہ چکا ہی نہیں سکتے۔شہداء کے ضمن میں تنخواہ اور پیٹی کی بات درست نہیں تھی۔ کچھ اور عوامل کی وجہ سے مولانا غصے میں تھے اور اسی کیفیت میں ان سے وہ بات نکل گئی۔

مگر اس کے بعد جو طوفانِ بدتمیزی برپا کیا گیا وہ نامناسب تھا، اسی مائینڈ سیٹ اور اسی قسم کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں میں حالات خراب ہوئے ہیں اور عوام کی بڑی تعداد ریاست سے لاتعلق ہوئی ہے۔ڈنڈے اور جبر کی بجائے پیار،احترام، مفاہمت اور رواداری سے معاملات درست کرنے کی کوشش ہونی چاہیئے۔ایسا کیا جاتا تو حالات اس نہج تک نہ پہنچتے۔

اس سے اگلے روز مولانا نے وکلاء کنونشن میں اپنے اسی موقف کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ "آپ ہمیں لڑانا چاہتے ہیں آپ قبائل کو کہہ رہے ہیں کہ وہ لشکر تیار کریں اس طرح آپ ہماری دشمنیاں پیدا کرنا چاہتے ہیں" اس کی وضاحت میں انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے یعنی فوج نے مشرقی پاکستان میں عوام سے مدد مانگی تو وہاں البدر اور الشمس کے نام سے جماعت اسلامی کی رضاکار تنظیمیں تیار ہوئیں، جنہوں نے فوج کی مدد کی، مگر نتیجہ یہ نکلا کہ جماعت اسلامی اور عوامی لیگ کی دشمنی پیدا ہو گئی اور البدر اور الشمس کے ان رضاکاروں کو شیخ حسینہ نے پھانسیاں دے دیں"۔مولانا صاحب، بصد احترام گزارش کروں گا کہ آپ نے مثال غلط دی ہے جس سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا۔

میں نے سقوطِ مشرقی پاکستان پر درجنوں کتابیں پڑھی ہیں۔حقائق یہ ہیں کہ وہ رضاکار، عوامی لیگ کے خلاف نہیں بلکہ دشمن ملک بھارت کی جارحیت کے خلاف اپنے ملک کے دفاع کے لیے تیار ہوئے تھے اور یہ پوری دنیا میں ہوتا ہے۔ دشمن ملک کے ساتھ جنگ چھڑ جائے تو عوام سے مدد کی اپیل بھی کی جاتی ہے، اور والنٹئیر اور رضاکار بھرتی بھی کیے جاتے ہیں، بلکہ اپیل نہ بھی کی جائے تو بھی عوام اور نوجوان اور سابق فوجی اپنی خدمات دفاع وطن کے لیے پیش کر دیتے ہیں اور پھر انھیں مختلف ذمے داریاں سونپی بھی جاتی ہیں۔

اگر وہ رضاکار عوامی لیگ کے خلاف تیار ہوئے ہوتے تو وہ عوامی لیگ کے لیڈروں کو چن چن کر مار دیتے۔آپ حقائق چیک کریں کہ ملٹری آپریشن کے دوران عوامی لیگ کے جیتنے والے 161 ایم این ایز میں سے بہت سے اپنے علاقوں میں رہے مگر انھیں کچھ نہیں کہا گیا، اور وہ بالکل محفوظ رہے۔ہاں البدر اور الشمس کے رضاکاروں کی دشمنی بھارت سے ضرور بن گئی تھی اور بالآخر انھیں بھارت کی مسلم دشمن مودی حکومت کے حکم پر ہی اس کی کٹھ پتلی وزیراعظم حسینہ نے اسوقت پھانسیاں دے دیں جب وہ اسی اسی سال کے بوڑھے ہو چکے تھے۔ حالانکہ ان میں سے بہت سے لیڈر بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے ممبر اور وہاں کی کابینہ کے وزیر بھی رہ چکے تھے۔

مولانا صاحب! کیا آپ نے کہیں پڑھا یا سنا کہ پھانسیوں پر جھولنے والے شہداء نے یا ان کے ورثاء نے پاکستان کی حکومت سے کوئی گلہ یا شکایت کی ہوکہ آپ نے ہمیں دشمنی میں کیوں پھنسا دیا، یا ہم نے اپنی فوج کی مدد کر کے غلطی کی۔یا ان میں سے کسی ایک نے کبھی معافی مانگی ہو یا معمولی سی بھی کمزوری دکھائی ہو۔ان کے مخالف صحافی بھی گواہی دیتے ہیں کہ اُن کا ہمیشہ بڑا واضح اور دوٹوک موقف رہا کہ اُس وقت ہمارا ملک پاکستان تھا۔ ہم نے اپنے وطن یعنی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دفاع اور اللہ کی خوشنودی کے لیے ہندوستان کی فوج کے مقابلے میں پاکستان کی فوج کا ساتھ دیا اور ہم ان کے شانہ بشانہ لڑے جس پر ہمیں اس وقت بھی فخر تھا اور آج بھی فخر ہے۔ آج ہم بنگلہ دیش کے شہری ہیں، اگر کبھی بھارت بنگلہ دیش پر حملہ کرے گا تو ہم اپنے وطن بنگلہ دیش کی حفاظت کے لیے بھی اپنی فوج کے شانہ بشانہ لڑیں گے۔پوری دنیا نے دیکھا کہ انھوں نے پوری جرات کے ساتھ پھانسیوں کے فیصلے سنے۔ان میں سے کسی کی ٹانگیں نہیں کانپیں۔کسی کے پائے استقامت میں معمولی سی لرزش پیدا نہیں ہوئی سب نے ایک روز پہلے پورے اطمینان سے اپنے اہل خانہ سے الوداعی ملاقاتیں کیں اور وقت آنے پر وہ ربِّ ذوالجلال کی عظمت کے نعرے لگاتے ہوئے گئے اور خوشی کے ساتھ تختہ دار پر جھول گئے۔ کائناتوں کا خالق اور مالک اتنا حوصلہ، جرات اور ہمت انھیں عطا کرتا ہے جو کسی عظیم نصب العین کے لیے جدوجہد کر رہے ہوں۔ان شہیدوں یا ان کے ورثاء نے تواس وقت کی پاکستان کی حکومت یا فوج کی قیادت سے بھی کوئی گلہ نہیں کیا کہ ہم نے آپ کے لیے جانیں دے دیں مگر آپ سے اتنا بھی نہ ہوسکا کہ اس خونخوارعورت کو اس ظلم سے روکنے کے لیے عالمی سطح پر آواز اٹھاتے۔

ابھی مجھے مشرقی پاکستان اور بنگلہ دیش امور کے ماہر پروفیسر سلیم منصور صاحب نے فون کر کے بتایا ہے کہ اس وقت ن لیگ کی حکومت کو پاکستان کے ان حامیوں کے حق میں کلمہء خیر کہنے کی بھی توفیق نہ ہوئی۔ صرف میرے بڑے بھائی جسٹس افتخار احمد چیمہ صاحب مرحوم نے قومی اسمبلی میں ان کے حق میں اور حسینہ واجد کے ظالمانہ اقدام کے خلاف زوردار تقریر کی تھی جو پارٹی قیادت کو اچھی نہ لگی۔

 مولانا صاحب! آپ کی ان باتوں سے قوم کو کیا پیغام جائے گا؟ یہی کہ اگر دشمن ملک کے ساتھ جنگ چھڑ جائے تو عوام صرف ڈرائنگ روموں میں بیٹھ کر تماشہ دیکھیں ۔ نہ کوئی رضاکار تیار ہو اور نہ فوج کی مدد کی جائے۔نہیں مولانا صاحب ایسا نہیں ہو سکتا نہ ہی کسی لیڈر کو ایسی بات کرنی چاہیئے۔ فوجی قیادت کی سیاست میں مداخلت پر ہم اس پر تنقید کرتے ہیں، اور عوام کو ان کا حق حکمرانی لوٹانے کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں (حالانکہ اس معاملے میں ایک آدھ کے سوا کسی سیاسی لیڈر کا کردار بے داغ نہیں ہے اور سب عسکری مداخلت سے مستفیض ہوتے رہے ہیں اور آئیندہ بھی ہونا چاہتے ہیں) مگر جب دشمن ملک کے مقابلے میں ہماری فوج میدان جنگ میں اترے گی (جس طرح کہ اس وقت میدانِ جنگ میں اتری ہوئی ہے اور دشمن ملکوں کی پیدا کردہ دہشت گردی سے نبرد آزما ہے) تو وہ ہماری محافظ، ہماری محسن اور ہمارے سر کا تاج ہو گی۔ہم اس کی پکار پر لبیک کہیں گے اور کسی دشمنی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس کے شانہ بشانہ لڑیں گے۔ آپ کو یاد ہوگا جس طرح 6 ستمبر 65 19کی صبح ملک کے صدر کی تقریر ختم ہوتے ہی لوگ ڈنڈے اور کلہاڑیاں لے کر محاذ جنگ کی طرف دوڑ پڑے تھے ۔اسی طرح جب بھی وطن عزیز کی حفاظت کے لیے محافظوں نے قوم کو پکارا تو میں خدا کو حاظر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ میں، میرے بھائی ڈاکٹر نثار احمد چیمہ اور ہمارے خاندان کے نوجوان للکارتے ہوئے اور یہ شعر پڑھتے ہوئے لبیک کہیں گے کہ

؎ اے وطن تو نے پکارا تو لہو کھول اٹھا

 تیرے بیٹے تیرے جانباز چلے آتے ہیں

صرف ہم ہی نہیں اس ملک کے کروڑوں لوگ دفاع وطن کی پکار پر لبیک کہیں گے۔ پچھلے سال مئی میں ہونے والی جنگ کے دوران سرحد پر واقع دیہاتوں کے نوجوانوں نے دو ڈرون خود گرائے اور حکومت سے کہا کہ ہمیں اسلحہ مہیّا کردیں، ہم وطن کی حفاظت کے لیے دشمن سے خود لڑیںگے۔ ہمارے قبائلی علاقوں کے باشندے بھی یہی کہا کرتے تھے کہ ہم بغیر وردی اور بغیر تنخواہ کے ملک کے محافظ ہیں۔ انشاء اللہ ملک کے ہر حصّے میں یہ جذبہ قائم ودائم رہے گا۔ مگر اسٹیبلشمنٹ کو بھی اپنا رویّہ بدلنا چاہیئے اور جبر کی بجائے شفقت، فراخدلی اور رواداری سے کام لینا چاہیئے۔