کاکروچ کرہِ ارض پر کم ازکم تین سو بیس ملین برس سے جی رہے ہیں۔اس قدر سخت جان کہ سائبیریائی برفستان سے گرم مرطوب استوائی خطوں تک ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ آس پاس کے ماحول کے مطابق خود کو تیزی سے ڈھال لیتے ہیں۔ کاکروچ لاطینی زبان میں بلاتاریا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بلاتاریا کا مطلب ہے ’’ اجالے سے بھاگنے والا ’’۔ہسپانوی میں بلاتاریا کو کاکروچ کہتے ہیں۔سترھویں صدی میں کاکروچ انگلش ڈکشنری کا حصہ بن گیا۔سائنسی تقسیم کاری کے اعتبار سے کاکروچ دیمک کا رشتے دار ہے۔دیمک بھی اندھیرے میں ہی پنپتی ہے۔
( اردو میں کاکروچ کو لال بیگ کہتے ہیں۔ کیوں اور کب سے کہتے ہیں۔اس بابت میں آپ کی معلوماتی مدد چاہوں گا )۔
کاکروچ انسانی انگوٹھے کے سائز سے لے کر چار انچ تک لمبے ہو سکتے ہیں۔اس کا دارو مدار جغرافیے اور آب و ہوا پر ہے۔کاکروچ بغیر ہوا کے پینتالیس منٹ اور بنا خوراک ایک ماہ تک زندہ رہ سکتے ہیں۔کاکروچ انسانوں اور دیگر جانوروں کے مقابلے میں پانچ تا پندرہ گنا زائد تابکاری سہہ سکتے ہیں۔اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جوہری جنگ کی صورت میں کوئی بچے نہ بچے بہت سے کاکروچ ضرور بچ جائیں گے۔
درخت کے تنے ، گھر کی الماری ، کچن ، ٹائلٹ ،گودام کی بوریوں اور چوکھٹوں کی درزوں سمیت کاکروچ کہیں بھی ٹھکانہ کر سکتے ہیں۔بس ذرا سی گرمی ، نمی اور اندھیرا درکار ہے۔کاکروچ تنہائی پسند نہیں بلکہ برادری کی شکل میں رہتے ہیں۔آپ کو کبھی ایک کاکروچ نظر نہیں آئے گا۔
کاکروچ کی اوسط عمر ایک برس تک بتائی جاتی ہے مگر مادہ کاکروچ اپنی زندگی میں تین سو سے چار سو بچے پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔انسان نے کاکروچوں کو ختم کرنے کے لیے کئی کیمیاوی و حیاتیاتی طریقے آزما لیے تاہم کاکروچوں کی ہر نسل ان طریقوں کی مزاحمت کے لیے ایک حیاتیاتی میکنزم اپنا لیتی ہے۔چنانچہ یہ ان معدودے چند حشرات میں شامل ہے جنھیں معدومی کا خوف نہیں۔
کئی ممالک میں انھیں خوراک کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔چین ، تائیوان ، تھائی لینڈ اور میکسیکو میں ان کی فارمنگ ہوتی ہے اور انھیں خشک کر کے پروٹین کے حصول اور ادویات اور کاسمیٹکس مصنوعات میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
کسی انسان کو کاکروچ کا طعنہ دینا کوئی نئی بات نہیں۔انیس سو نوے کی دہائی میں روانڈا میں ہو تو اکثریت نے تتسی اقلیت کی نسل کشی کے دوران انھیں کاکروچ قرار دے کر ہی لاکھوں کی تعداد میں مارا تھا۔
اب سے دو ماہ پہلے ( پندرہ مئی ) بھارت کے چیف جسٹس سوریاکانت نے ’’ آ بیل مجھے مار ‘‘ کے مصداق ایک سماعت کے دوران کہہ ڈالا کہ بے روزگار نوجوان کاکروچوں کی طرح ہیں۔سب جانتے ہیں کہ بھارت ہو یا پاکستان۔کاکروچ کسی کو پسند نہیں۔ چنانچہ کسی کو کاکروچ کہہ دینا گالی برابر ہے۔
جسٹس سوریا کانت کے ان ریمارکس کے اگلے روز ہی ڈجیٹل کمیونکیشن سے وابستہ جواں سال ابھیجیت دبکے نے کاکروچ جنتا پارٹی کے نام سے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ اکاؤنٹ کھول دیا۔راتوں رات دو لاکھ نوجوان اس اکاؤنٹ پر رجسٹر ہو گئے اور انسٹاگرام اکاؤنٹ سے چالیس لاکھ لوگ منسلک ہو گئے۔سوشل میڈیا میمز سے بھر گیا۔نوجوانوں کی بڑی تعداد نے کاکروچ کو گالی سمجھنے کے بجائے بطور اعزاز اپنا لیا۔
اور پھر اچانک میڈیکل کالجوں میں داخلے کے امتحان کے پیپر لیک ہونے کا اسکینڈل سامنے آ گیا۔یہ کوئی نیا اسکینڈل نہیں تھا مگر کاکروچ جنتا پارٹی نے اس مسئلے کو زبان دے دی اور مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفی کا مطالبہ شروع ہو گیا۔
مودی حکومت نے حسبِ عادت اس غصے کو بچوں کا وقتی ردِعمل سمجھ کے نظرانداز کر دیا۔مگر کاکروچ اس بار سنجیدہ تھے کیونکہ پیپر لیک اسکینڈل سے کم ازکم دو لاکھ طلبا متاثر ہوئے۔ان میں سے سترہ نے مایوس ہو کر خود کشی بھی کر لی۔
کاکروچوں نے چھتیس دن پہلے دلی کے مرکزی علاقے جنتر منتر میں دھرنا دے دیا۔اس میں شامل ہونے والوں کی تعداد ہزاروں میں نہیں سیکڑوں میں تھی۔ان کا یہی مطالبہ تھا کہ حکومت امتحانی نظام میں اصلاحات کرے اور چونکہ یہ اسکینڈل موجودہ وزیرِ تعلیم کے ہوتے سامنے آیا ہے لہذا وہ اس کی اخلاقی ذمے داری قبول کرتے ہوئے استعفی دیں۔مگر مودی حکومت نے پہلے دن سے ہی اپنے بارے میں یہ تاثر پھیلا رکھا ہے کہ وہ کسی بحران میں پیچھے نہیں ہٹتی۔اس زعم میں کسی سرکاری نمائندے نے کاکروچوں سے رابطہ نہیں کیا۔ ٹی وی چینلز کی اکثریت چونکہ دو ارب پتی صنعت کاروں ( اڈانی اور مکیش امبانی ) نے خریدی ہوئی ہے لہذا انھوں نے اس احتجاج کو مکمل طور پر نظرانداز کیا۔لیکن جب ملک کے ایک مایہ ناز موجد اور انسانی حقوق کے کارکن سونم وانچک نے دھرنے میں شامل ہو کر تادمِ مرگ بھوک ہڑتال کا اعلان کیا تو گویا تحریک میں جان پڑ گئی۔کاکروچ جنتا پارٹی نے اعلان کیا کہ اگر ان کے مطالبات بیس جولائی تک منظور نہ ہوئے تو پھر پارلیمنٹ کی طرف مارچ ہو گا۔
مطالبات تو خیر کیا منظور ہوتے۔حکومت نے طفیلی میڈیا کے ذریعے کاکروچ قیادت کی کردار کشی شروع کر دی۔ کہا گیا کہ انھیں بیرونی فنڈنگ مل رہی ہے۔سونم وانچک چینی ایجنٹ ہیں۔اس تحریک کے بہانے پاکستانی ایجنٹ آپریشن سندور کا بدلہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔یہ بالکل وہی حرکت تھی جو کوویڈ سے پہلے چلنے والی کسان حقوق کی تحریک کے ساتھ ہوئی تھی اور اسے خالصتانی ایجنٹوں کی کارستانی قرار دے کر دبانے کی ناکام کوشش کی گئی تھی۔
اس بار مودی حکومت کا روائیتی کردار کش ہتھکنڈہ نہیں چل پا رہا۔سونم کو بھوک ہڑتال کے اٹھارویں روز پولیس جبراً اٹھا کر صفدر جنگ اسپتال لے گئی۔مگر جاتے جاتے سونم نے اپیل کر دی کہ بیس جولائی کو پارلیمنٹ کی جانب ہر صورت میں مارچ ہو گا۔ہر عمر کے کاکروچ ملک کے کونے کونے سے دلی پہنچنے لگے۔
بیس جولائی کو لگ بھگ ایک لاکھ کاکروچوں نے پارلیمنٹ کی طرف بڑھنے کی کوشش کی۔ان پر وزیرِ داخلہ اور مودی کے دستِ راست امیت شاہ کے حکم پر جس طرح پولیس ، پیرا ملٹری فورس اور سادہ لباس میں لٹھ بردار سنگھی غنڈے پل پڑے۔اس نے گویا پورے ملک میں آگ لگا دی۔
اب مطالبہ ہو رہا ہے کہ صرف وزیرِ تعلیم کا نہیں وزیرِ داخلہ اور وزیرِ اعظم کا بھی استعفی چاہیے۔سونم وانچک نے چھبیس روز بعد بھوک ہڑتال تو ختم کر دی مگر جو چنگاری پینتیس دن پہلے دلی کے جنتر منتر سے شروع ہوئی وہ اب مودی کے بارہ سالہ دور سے کھلم کھلا بیزاری کی صورت میں پھیلتی جا رہی ہے۔
لاکھوں کاکروچ جو آج سڑک پر ہیں دو ہزار انتیس میں پہلی بار ووٹ کا حق استعمال کریں گے۔بقول مہان اداکار نصیر الدین شاہ ’’ سب یاد رکھا جائے گا ‘‘۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)