سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل نہ ہوا تو نیوکلیئر ڈیل نہیں ہوگی، ٹرمپ

ابھی تک ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کرنے یا نہ کرنے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا، ٹرمپ


ویب ڈیسک July 24, 2026
فوٹو: فائل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل نہ ہوا تو امریکا اس کے ساتھ نیوکلیئر ڈیل نہیں کرے گا۔

اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ سعودی عرب کو معاہدہ ابراہیمی کا حصہ بننا چاہیے بصورت دیگر جوہری تعاون کا معاہدہ ممکن نہیں ہوگا۔

ایران سے متعلق سوال پر امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے ابھی تک ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کرنے یا نہ کرنے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا کیونکہ تہران کے ساتھ جاری مذاکرات میں ایرانی حکام پہلے کے مقابلے میں زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ہماری ان سے بات چیت جاری ہے اور میرا خیال ہے کہ وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ سنجیدہ ہوتے جا رہے ہیں شاید اس کی وجہ بھی سب جانتے ہیں۔

واضح رہے کہ چند روز قبل صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری پروگرام کے معاہدے کی منظوری دی تھی، تاہم اس پر عمل درآمد کے لیے امریکی کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے میں یورینیم کی افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی اور یہ پروگرام صرف پرامن و غیر فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

انہوں نے اس وقت بھی واضح کیا تھا کہ اس معاہدے کی بنیادی شرط سعودی عرب کی معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت ہوگی۔