پاکستان اور قازقستان کا تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کیلیے مشترکہ عزم کا اظہار

قازقستان کے وزیر خارجہ نے خطے میں امن اور سفارت کاری کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا


ویب ڈیسک July 25, 2026

پاکستان اور قازقستان نے تجارت و سرمایہ کاری کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کیا ہے۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایس سی او اجلاس کے موقع پر قازقستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ یرمیک کوشیربایف سے اہم ملاقات کی ہے۔

ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے قازقستان کے صدر قاسم جومارت توقایف کے دورہ پاکستان کے بعد دو طرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت کا جائزہ لیا۔ انہوں نے صدر جومارت کے دورے میں طے پانے والے اتفاقِ رائے، بشمول 37 مفاہمتی یادداشتوں پر عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کیا۔

بات چیت کے دوران تجارت، سرمایہ کاری، ٹرانسپورٹ، علاقائی روابط، توانائی، عوامی روابط اور کثیرالجہتی فورمز پر تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔

وزیر خارجہ یرمیک کوشیربایف نے خطے میں امن اور سفارت کاری کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک باہمی تعاون بڑھائیں گے۔

دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلۂ خیال کرتے ہوئے امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ یرمیک کوشیربایف نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو قازقستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔

واضح رہے کہ پاکستان اور قازقستان کے درمیان حالیہ عرصے میں سفارتی اور اقتصادی تعلقات میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ قازق صدر قاسم جومارت توقایف کا دورہ پاکستان ان تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کا باعث بنا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں طویل المدتی اشتراک عمل کا عزم ظاہر کیا ہے۔

وزیر خارجہ کی بیلاروس کے ہم منصب سے ملاقات

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کرغزستان کے شہر چولپون آتا میں ایس سی او اجلاس کے موقع پر بیلاروس کے وزیر خارجہ میکسم ریژینکوف سے بھی ملاقات کی ہے، جس میں فریقین نے دونوں ممالک  کے تعلقات کا جائزہ لیا اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ  کیا۔

اس موقع پر دونوں رہنماؤں کا 11 اور 12 اگست 2026 کو اسلام آباد میں پاک بیلاروس مشترکہ وزارتی کمیشن  کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار  کیا گیا۔ علاوہ ازیں اقتصادی اور تجارتی تعاون کے فروغ، دفاع، زراعت، ٹیکنالوجی اور افرادی قوت کے تبادلے کے شعبوں میں اشتراک بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال بھی ہوا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اس موقع پر 2025 تا 2027 کے جامع تعاون کے روڈ میپ پر عملدرآمد کے لیے اپنے عزم کا بھی اعادہ یا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔

وزیر خارجہ میکسم ریژینکوف نے امریکا ایران مکالمے کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا اور خطے میں امن و سلامتی کے فروغ کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کی تعریف کی۔