پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سکول ایجوکیشن کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ پنجاب میں پرائیویٹ سکولوں کی فیس مقرر کرنے سے متعلق کوئی قانون موجود نہیں، جبکہ محکمہ سکول ایجوکیشن نے بھی اس کا اعتراف کر لیا۔
سیکرٹری اسکول ایجوکیشن نے اجلاس میں بتایا کہ فیس کے تعین کا کوئی قانون موجود نہیں، صرف سالانہ اضافے سے متعلق قواعد ہیں، جن کے مطابق پرائیویٹ سکول سالانہ فیس میں 4 سے 5 فیصد سے زیادہ اضافہ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کے تحت محکمہ کے پاس صرف فیس میں اضافے کو کنٹرول کرنے کا اختیار ہے۔
چیئرمین قائمہ کمیٹی نے کہا کہ گزشتہ اجلاس میں محکمہ نے مختلف مؤقف اختیار کیا تھا۔ کمیٹی اراکین نے سوال اٹھایا کہ اگر محکمہ کے پاس رجسٹریشن کا اختیار ہے تو قواعد کی خلاف ورزی پر کارروائی کیوں نہیں کی جاتی۔
کمیٹی اراکین کا کہنا تھا کہ ایسا ممکن نہیں کہ کوئی بھی کہیں کرسی اور ٹیبل لگا کر سکول کھول لے۔ اگر محکمہ سکول کھولنے کی اجازت دیتا ہے تو چیک اینڈ بیلنس بھی برقرار رکھ سکتا ہے۔
اجلاس میں کمیٹی اراکین نے کہا کہ بعض پرائیویٹ سکول ہزاروں اور لاکھوں روپے فیس وصول کرتے ہیں، جہاں غریب خاندانوں کے بچوں کے لیے تعلیم حاصل کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے سکولوں کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔