ٹرمپ کا امریکی فوج کو ایران پر جاری حملے روکنے کا حکم

امریکی صدر کے حکم کے بعد ایران پر مسلسل 13 روز سے جاری حملوں کا سلسلہ رک گیا ہے تاہم واضح نہیں کہ یہ عارضی ہے یا مستقل


ویب ڈیسک July 25, 2026
فوٹو: فائل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی فوج کو ایران کے خلاف دو ہفتوں سے جاری حملے روکنے کا حکم دے دیا۔

امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق فیصلے سے آگاہ دو ذرائع نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوج کو گزشتہ روز حکم دیا تھا کہ ایران پر نئے حملے نہیں کریں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹرمپ کی یہ ہدایات ایران پر گزشتہ 13 روز سے روزانہ کی بنیاد پر منظور شدہ حملوں کے تسلسل کے دوران سامنے آئی ہیں تاہم یہ اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ ٹرمپ کا یہ حکم وقتی طور پر ہے یا برقرار رہے گا۔

ویب سائٹ نے بتایا کہ امریکی صدر کے فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سفارت کاری کو موقع دینے کے خواہاں ہیں اور دوسری طرف اس حقیقت کو بھی تسلیم کر رہے ہیں کہ بڑے پیمانے پر فوجی حملے دوبارہ شروع کیے بغیر امریکا کے فضائی حملے اپنے مقاصد حاصل کرچکے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی فوج ممکنہ بڑے بری آپریشن کے لیے واپسی کے منصوبوں کی تیاری کر رہی ہے لیکن ٹرمپ نے اس حوالے سے کوئی ہدایت تاحال نہیں دی ہے اور وائٹ ہاؤس نے بھی اس حوالے سے کوئی ردعمل نہیں دیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ دو ہفتوں سے ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملوں کی روزانہ کی بنیاد پر منظوری دی جاتی تھی اور چند گھنٹوں کے اندر وہ کارروائی عمل میں لائی جاتی رہی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ روز ٹرمپ کو ایسا ہی منصوبہ موصول ہوا لیکن انہوں نے اس کی توثیق نہیں کی جبکہ انہوں نے فوج کو حملے نہ کرنے کی ہدایت کردی۔

رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے فوج کو یہ احکامات جاری کرنے کے فوری بعد وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس حملے جاری رکھنے یا اس کو طول دینے کا آپشن موجود ہے، جس میں سب کچھ تباہ کرنا بھی شامل ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں دانش مندی کے ساتھ حکمت عملی یہی ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اس وقت ایران کے ساتھ بات کر رہے ہیں، میرے خیال میں وہ پہلے سے زیادہ سنجیدہ ہیں، ہم بھی اس کے لیے واضح اور کارروائی کے لیے تیار ہیں مگر اس کے باوجود ہم ان سے مذاکرات کر رہے ہیں۔

بعد ازاں ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ایران اس وقت معاہدے کے لیے تیار ہے لیکن میں ان کی بات سننا چاہتا ہوں۔