راولپنڈی کے تھانہ صدر بیرونی کے علاقے اڈیالہ روڈ ثمرزار پر معصوم بچیوں کے سامنے کاروباری شخصیت سردار ارشاد کی ٹارگٹ کلینک کے واقعہ میں انکشافات و الزامات کا سلسلہ تھم نہ سکا۔
رپورٹ کے مطابق اجرتی قاتلوں کے زریعے قتل ہونے والے سردار ارشاد کےلواحقین سی پی او راولپنڈی حسن مشتاق سکھیرا کے سامنے پیش ہوئے اور سی سی ڈی راولپنڈی کے پولیس افسر کے خلاف الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔
سردار ارشاد کی بیوہ اور لواحقین نے سی پی او راولپنڈی کو دی درخواست میں ہوش روبا انکشافات کرتے ہوئے درخواست میں سی سی ڈی راولپنڈی کے سابق ایس ایچ او کو مقدمے میں نامزد کرکے تفتیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔
انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ واقعہ کےبعد مختلف جرگوں میں اجرتی قاتلوں اور سہولت کاروں کے متعلق انکشافات سامنے آئے، خاندان نے سی پی او راولپنڈی اوراعلیٰ حکام سے آزاد تحقیقاتی کمیشن تشکیل دینے اور لواحقین کو تحفظ فراہم کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر سرا سابق ایس ایچ او سی سی ڈی تک بھی پہنچ رہا ہے انکوائری بھی کی جائے تاکہ حقائق واضع ہوسکیں۔
اسی طرح مزید کہا گیا ہے کہ سی سی ڈی راولپنڈی کے سابق ایس ایچ او کے کردار سمیت تمام شواہد کی فرانزک جانچ کی جائے اور سردار ارشاد قتل کیس بارے مبینہ سازش کے تمام پہلوؤں کو سامنے لایا جائے
لواحقین کی درخواست پر سی پی او راولپنڈی حسن مشتاق سکھیرا نے وسیع پیمانے پر تحقیقات کا آغاز کردیا اس حوالے سے سی پی راولپنڈی حسن مشتاق سکھیرا سے رابطہ کرکے موقف دریافت کیا گیا تو انھوں نے معاملہ چیک کرکے جواب دینے کا کہا۔
بعد میں پولیس ترجمان نے رابطہ کرکے موقف فراہم کرتے ہوئے کہا معاملے کو تفصیل سے چیک کیا جارہا ہے۔
دوسری جانب ایکسپریس نے ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ سے بھی موقف معلوم کرنے کے لیے رابطے کے کوشش کی اور پیغام بھی چھوڑا گیا لیکن جواب فراہم نہیں کیاگیا۔
یاد رہے کہ سی سی ڈی کے سابق ایس ایچ او کچھ عرصہ قبل تبدیل کردیے گیے تھے۔