سندھ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے ایک اجلاس میں سندھ کے آئی جی پولیس نے ایک مسئلے پر پنجاب کا نام لیا تو اجلاس کی صدارت کرنے والی خاتون نے کہا کہ سندھ کا پنجاب سے موازنہ نہ کریں۔ اسی اجلاس میں جب ایک افسر نے کہا کہ لاہور میں فرانزک لیبارٹری ہے کراچی میں نہیں تو انھیں بھی ایسی مثال دینے سے منع کیا گیا۔ ادھر لاہور میں واٹر بورڈ کے افسروں کے ہمراہ مطالعاتی دورے پر آئے ہوئے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب سے صحافیوں نے پوچھا کہ کیا آپ کو لاہور کی سڑکوں پر کوئی کھڈا یا گڑھا نظر آیا تو میئر کراچی نے لاہور کی سڑکوں کی بہتری کا اعتراف کرنے کی بجائے بات ٹالنے کے لیے جواب دیا کہ’’ کیا آپ یہاں میری لڑائی کرائیں گے؟‘‘
لاہور میں شہباز حکومت میں پنجاب کی پہلی میٹرو بس سروس بننا شروع کی گئی تھی تو پی ٹی آئی کے چیئرمین نے اس کی مخالفت کی تھی اور سیاسی مخالفت میں پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی نے لاہور میٹرو کو جنگلا بس قرار دیا تھا اور میٹرو کی کامیابی دیکھ کر کے پی کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک جن کا تعلق پی ٹی آئی سے تھا، نے بھی اپنے پارٹی چیئرمین کی اجازت سے پشاور میں بھی میٹرو بس سروس شروع کرائی تھی جس کی تعمیر میں تاخیر اور بدنظمی سے اخراجات زیادہ آئے تھے، تعمیر مکمل ہونے کے کئی سال بعد تک خامیاں سامنے آتی رہی تھیں، اگر پشاور میٹرو کے لیے لاہور میٹرو بنانے والوں سے مشاورت کر لی جاتی تو پشاور میٹرو کی لاگت بڑھتی نہ تاخیر ہوتی مگر سیاسی مخالفت کے باعث بعد میں کے پی کی تحریک انصاف حکومت کو لاہور میٹرو کی مجبور ہو کر تقلید کرنا پڑی تھی۔
جب لاہور میں پاکستان کی پہلی میٹرو سروس شروع ہوئی تھی ،اسی سے سالوں قبل دنیا کے ترقی یافتہ ممالک ہی نہیں کم ترقی یافتہ ممالک کے بڑے شہروں میں موٹرویز اور میٹرو سروس کی ابتدا ہو چکی تھی اور پاکستان میں اس کی ابتدا مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں ہوئی تھی۔ملک میں موٹرویز اور میٹرو سروس شروع کرنے کا سہرا مسلم لیگ (ن) کے سر ہے۔ موٹرویز وزیر اعظم نواز شریف اور پنجاب میں میٹرو سروس اور اورنج ٹرین لاہور وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی کارکردگی شمار ہوتے ہیں جن کی مخالفت میں پی ٹی آئی سر فہرست تھی پھر 2017 میں میاں نواز شریف کی تیسری حکومت میں ملتان و سکھر کے درمیان موٹروے بنی اور کراچی میں بی آر ٹی ریڈ لائن سالوں سے زیر تعمیر ہے جو سندھ حکومت نے بنانی ہے جب کہ وفاقی حکومت کے سرجانی سے نمائش چورنگی تک بی آر ٹی منصوبے میں بھی تاخیر ہوئی۔ لاہور میں حکومت پنجاب نے جدید بسوں کے ذریعے پہلے لاہور میں عوام کو سفری سہولت فراہم کی جس میں بعد میں مزید شہر شامل کیے گئے۔
سندھ میں پی پی حکومت نے پنجاب کی تقلید کے بعد کراچی میں جدید بسوں کی سہولت فراہم کی جس میں بعد میں اندرون سندھ کے کئی شہروں کو شامل کیا گیا اور حال ہی میں شکارپور اور سکھر کے درمیان سندھ حکومت نے جدید بسوں کی سہولت فراہم کی اور کراچی میں دوبارہ ڈبل ڈیکر بسوں کا آغاز سندھ حکومت نے ہی کیا جو چار پانچ عشروں قبل کراچی میں چلتی تھیں۔
اچھے کاموں کی تقلید ہونی چاہیے، چاہے وہ دشمن ہی شروع کرے مگر سیاسی عداوت میں ایک صوبے کو دوسرے صوبے کی مثال دینے پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے جیسے اب بھی سیاستدان کرتے ہیں۔ لاہور میں فرانزک لیبارٹری جیسی جو سہولت موجود ہے جس سے دوسرے صوبے بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں تو باقی تین صوبوں کو بھی لاہور کی طرح کی فرانزک لیبارٹری بنانا چاہیے جو موجودہ دور کی ضرورت بن چکی ہے اور فرسودہ طریقے ختم ہو رہے ہیں۔
تین صوبوں میں الگ الگ پارٹیوں اور بلوچستان میں مخلوط حکومت ہے جہاں کارکردگی کا مقابلہ ہونا چاہیے۔ کسی صوبے کے اچھے کام کی تقلید ضروری ہو چکی ہے جس کا عوام خود موازنہ کرکے فیصلہ کرتے ہیں اور اس سلسلے میں پنجاب نمایاں ہے جہاں کی کارکردگی کا موازنہ دیگر صوبوں کو کرنا چاہیے۔