جدید دور کے نئے قید خانے

"جب انسان صرف اپنے لیے جینا چھوڑ دیتا ہے تب اس کی حقیقی آزادی کا سفر شروع ہوتا ہے"


زمرد نقوی July 26, 2026
www.facebook.com/shah Naqvi

اپنی EGO پر فتح حاصل کرنا؟ یہ تو ایک مکمل پیراڈائم شفٹ ہے۔ جب کسی سچائی کے لیے جیسے کوئی شخص اپنے شاندار کیریئر کو دائو پر لگا کر کسی بڑے ظلم کے خلاف گواہی دے دے تو اس لمحے وہ طبعی یا سماجی نقصان تو اٹھا رہا ہوتا ہے لیکن اندرونی طور پر اپنی انا کے زندان کی بلند دیوار گرا رہا ہوتا ہے۔ "جب انسان صرف اپنے لیے جینا چھوڑ دیتا ہے تب اس کی حقیقی آزادی کا سفر شروع ہوتا ہے"۔ اگر ہم اس نظریے کو آج کے دور کے مسائل اور اس جدید تہذیب کے آئینے میں دیکھیں ۔ تو اس کی اہمیت کہیں زیادہ شدت سے محسوس ہوتی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ دور حاضر میں تو ہم بہت ترقی یافتہ ہیں۔ ترقی یافتہ تو ہیں کہ آج کے انسان نے سائنس کے ذریعے فطرت کو مسخر کر لیا ہے۔ ہمارے پاس بے پناہ مادی وسائل ہیں اور معلومات کا ایک سیلاب ہے۔ لیکن چونکہ اس جدید تہذیب کے پاس عشق اور روحانی شعور کی شدید کمی ہے۔ اس لیے دنیا آج بھی ہولناک جنگوں ، بے حسی اور کھوکھلے پن کا شکار ہے۔

یہ بات انتہائی قابل غور ہے۔ ہم ہمیشہ یہ سوچتے آئے ہیں کہ ٹیکنالوجی انسان کو مکمل آزاد کر دے گی۔ لیکن دور حاضر میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جدید تہذیب نے پرانے قید خانوں کی جگہ نئے اور انتہائی پیچیدہ قید خانے بنا دیئے ہیں۔ نئے اور چمکدار قید خانے۔ مادیت پرستی، ہر وقت اسکرین کے سحر میں کھوئے رہنا۔ سوشل میڈیا پر دوسروں کی توجہ اور لائیکس حاصل کرنے کی لت۔ یہ سب بھی تو زندان ہی ہیں۔ "ہم سمجھتے ہیں کہ ہم پوری دنیا سے جڑے ہوئے آزاد شہری ہیں۔ لیکن درحقیقت ہم تنہائی اور خبط عظمت کے نہایت نفیس زندانوں میں قید ہو رہے ہیں"۔ شریعتی کا یہ تجزیہ اس پوری بحث کا نچوڑ ہے۔ آج ہم جس چیز کو آزادی سمجھتے ہیں۔ یعنی جو چاہے خریدو، جو چاہے پہنو، جس طرف چاہے جائو۔ جسے ہم چوائس سمجھتے ہیں۔ یہ اکثر اوقات محض ہماری اندرونی خواہشات اور صارفیت کی غلامی ہوتی ہے۔ یعنی Consumerism ۔ شریعتی کا پیغام یہی ہے کہ حقیقی آزادی محض سیاسی ، معاشی ، بیڑیوں کو کاٹ دینے کا نام نہیں ہے۔ بلکہ یہ انسان کی انفرادی اور روحانی ذمے داری ہے کہ وہ علم ، ایمان اور عمل کی قوتوں کو ملا کر اپنی ذات کے اندر ایک انقلاب برپا کرے۔ ایک ایسا انقلاب جہاں زندگی کے فیصلے محض لالچ، ہوس یا خوف کی بنیاد پر نہ ہوں۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب تک ہم اس اندرونی شعور کو بیدار نہیں کرتے اور چوتھے زندان کو نہیں توڑتے ۔ ہمارے تمام بیرونی انقلابات آخر کار ناکام ہو جائیں گے۔ ہم ایک ظالم کو بٹھا کر دوسرے ظالم کو تخت پر بٹھا دیں گے۔ کیونکہ لوگوں کے اندر ہوس ، جبر کی خواہش اور لالچ تو ختم نہیں ہوا۔ اور یہی بات ڈاکٹر شریعتی کے افکار کو 'لازوال ' بناتی ہے۔ وہ انسان کو یاد دلاتے ہیں کہ اگر تم زمین پر ایک با مقصد ہستی ہو تو تمہیں اپنے اندر وہ صفات پروان چڑھانی ہونگی جو تخلیقی اور ربانی ہوں۔ اور یہ ارتقاء اسی وقت ممکن ہے جب ذات کی بلند و بالا دیواریں عشق اور قربانی کے ہتھوڑوں سے توڑی جائیں۔

اس گہرے مطالعہ کے ذریعے یہ پتہ چلتا ہے کہ کیسے ایک محض حیاتیاتی وجود یعنی بشر سے حقیقی انسان بننے کا سفر چار کٹھن خطرناک قید خانوں سے گزر کر طے ہوتا ہے۔ ہم نے فطرت تاریخ اور معاشرے کے قید خانوں کو علم ، سائنس اور عمرانیات کے زور پر توڑنے کی بھر پور کامیاب کوشش کی لیکن جب باری آئی اپنی ذات کی ۔ اپنے نفس کے اندھیروں کی ۔ وہاں مادی سائنس اور عقلی فلسفے ہار گئے۔ وہ چوتھا قید خانہ صرف اور صرف عشق ، مقصدیت اور ایثار کی کنجی سے ہی کھل سکتا ہے۔ یہ آزادی کوئی ایسی شے نہیں جو ایک بار مل گئی تو ہمیشہ پاس رہے گی۔ بلکہ یہ ہر روز ہر لمحے کی جانے والی ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔ اور یہ جدوجہد ہر اس شخص کی ہے جو خود کو انسان کہلانے کا دعویٰ کرتا ہے۔

آج کے اس جدید دور میں جب رات کے وقت کوئی شخص اپنے اسمارٹ فون کی چمکتی اسکرین کو مسلسل سکرول کر رہا ہوتا ہے تو ایک لمحے کے لیے رک کر خود سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ کیا وہ واقعی آزاد ہے؟ یا اس نے محض اپنی انا ، اپنی خواہشات اور دوسروں سے بہتر نظر آنے کی تسکین کے لیے ایک ایسی ڈیجیٹل جیل چن لی ہے جس کی دیواریں شیشے اور پکسل کی تو ہیں جب کہ اس کا سب سے مضبوط تالا اس کے اپنے ذہن اور شعور پر لگا ہوا ہے۔ یہ ایک بہت ہی چبتا ہوا سوال ہے۔ یاد رکھیے قید خانہ تو بہرحال قید خانہ ہی ہوتا ہے۔ چاہے اس کی سلاخیں لوہے کی ہوں یا ہمارے اپنے بنے ہوئے خیالات ، تعصبات اور خواہشات کی۔

بطل حریت ڈاکٹر علی شریعتی کو شہنشاہ ایران کی خفیہ ایجنسی ساواک کے ایجنٹوں نے لندن میں سفاکانہ طور پر قتل کر دیا۔ تاریخ کے ہر دور میں ایسی شخصیات کو قتل کرنا ضروری ہوتا ہے جو لوگوں کے ذہن تبدیل کرنے پر قادر ہوں۔

تاریخ کے ہر دور میں ایسی تمام عظیم شخصیات کو قتل کیا جاتا رہا ہے۔ جو بشر کے ذہن کو تبدیل کر کے معاشرے میں انقلابی تبدیلیاں لانے پر قادر ہوں۔