یوسفی!

مشتاق احمد یوسفی‘ اردو نثر میں مزاج نگاری کی پیوند کاری کرتے ہیں۔ اورصاحب خوب کرتے ہیں۔ شائستگی اورنفاست سے بھرپور مزاج لکھنا انھیں کا خاصا ہے۔


راؤ منظر حیات July 26, 2026

مشتاق احمد یوسفی‘ اردو نثر میں مزاج نگاری کی پیوند کاری کرتے ہیں۔ اورصاحب خوب کرتے ہیں۔ شائستگی اورنفاست سے بھرپور مزاج لکھنا انھیں کا خاصا ہے۔ کئی ماہ پہلے‘ ایک کتاب موصول ہوئی‘ جس کا نام تھا Glimpses ،ایس ایم شاہد نے یوسفی صاحب کے چیدہ چیدہ کام کو ‘ انگریزی زبان میں ترجمہ کر کے لوگوں کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ یوسفی صاحب کو پڑھنے کا تو خیر اتفاق ہوا ہی ہے ۔بلکہ یوٹیوب پر‘ ان کی زبانی‘ اپنی کتابوں کے اقتباسات بھی دیکھنے اور سننے کو ملے ہیں۔ مشتاق احمد یوسفی‘ مزاح نگاری میں کیا مقام رکھتے ہیں۔ اس کا اندازہ آپ کو چند اکابرین کے درج شدہ جملوں سے ہو جائے گا۔

اگر مزاحیہ ادب کے موجودہ دور کو ہم کسی نام سے منسوب کرسکتے ہیں تو وہ یوسفی صاحب کا نام ہے۔(ابن انشاء)

ہم اردو مزاح کے عہد یوسفی میں جی رہے ہیں۔(ڈاکٹر ظہیر فتح پوری)

یوسفی ایک ظرافت نگار کی حیثیت سے ایک نیا دبستان ہیں۔(مجنوں گورکھپوری)

ظرافت کے فن اور اس کے صحیفۂ اخلاق کا یوسفی کے ہاں بڑا قابل تعریف رکھ رکھاؤ ملتا ہے۔ طنز و ظرافت میں جتنے Pitfalls ہوتے ہیں‘ شعر و ادب کی شاید ہی کسی اور صنف میں ملتے ہوں ۔ یوسفی اس منزل سے آسان اور کامیاب گزرے ہیں۔(رشید احمد صدیقی)

اب ذرا‘ محترم یوسفی صاحب کی تحریر کی طرف آئیے۔ اس کتاب میں ایک صفحہ انگریزی ترجمہ ہے۔ اور بالکل سامنے مشتاق صاحب کی تحریر ہے۔ ویسے یہ بھی بہت نفیس اور اعلیٰ کام ہے۔

پہلا پتھر: اپنا مقدمہ بقلم خود لکھنا کار ثواب ہے کہ اس طرح دوسرے جھوٹ بولنے سے بچ جاتے ہیں۔ دوسرا فائدہ یہ کہ آدمی کتاب پڑھ کر قلم اٹھاتا ہے۔ ورنہ ہمارے نقاد عام طورسے کسی تحریر کو اس وقت تک غور سے نہیں پڑھتے جب تک انھیں اس پر سرقے کا شبہ نہ ہو ۔

…اس موقع سے جائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا مختصر سا خاکہ پیش کرتا ہوں:

نام : سروق پر ملاحظہ فرمائیے۔

خاندان : سو پشت سے پیشۂ آبا‘ سپہ گری کے سوا سب کچھ رہا ہے۔

تاریخ پیدائش:عمر کی اس منزل پر آ پہنچا ہوں کہ اگر کوئی سن ولادت پوچھ بیٹھے تو اسے فون نمبر بتا کر باتوں میں لگا لیتا ہوں۔

پیشہ: گو کہ یونیورسٹی کے امتحانوں میں اول آیا‘ لیکن اسکول میں حساب سے کوئی طبعی مناسبت نہ تھی۔ اور حساب میں فیل ہونے کو ایک عرصہ تک اپنے مسلمان ہونے کی آسمانی دلیل سمجھتا رہا…

…پالتو جانوروں میں کتوں سے پیار ہے۔ پہلا کتا چوکیداری کے لیے پالا تھا۔ اسے کوئی چرا کر لے گیا۔ اب محض بربنائے وضع داری پالتا ہوں کہ انسان کتے کا بہترین رفیق ہے۔

…پڑیے گر بیمار: میں اس جسمانی تکلیف سے نہیں گھبراتا جو لازمۂ علالت ہے۔ اسپرین کی صرف ایک گولی یا مارفیا کا ایک انجیکشن اس سے نجات دلانے کے لیے کافی ہے۔ لیکن اس روحانی اذیت کا کوئی علاج نہیں جو عیادت کرنے والوں سے مسلسل پہنچتی رہتی ہے۔ ایک دائم المرض کی حیثیت سے جو اس درد لا دوا کی لذت سے آشنا ہے‘ میں اس نتیجے پر پہنچتا ہوں کہ مارفیا کے انجیکشن مریض کے بجائے مزاج پرستی کرنے والوں کو لگائے جائیں تو مریض کو بہت جلد سکون آ جائے۔

…یادش بخیریا: انگریزوں کا وتیرہ ہے کہ وہ کسی عمارت کو اس وقت تک خاطر میں نہیں لاتے جب تک وہ کھنڈر نہ ہو جائے۔ اسی طرح ہمارے ہاں بعض محتاط حضرات کسی کے حق میں کلمۂ خیر کہنا روا نہیں سمجھتے تاوقت کہ ممدوح کا چہلم نہ ہو جائے۔

…ترقی یافتہ ممالک میں یہ رجحان عام ہے کہ تعلیم نہایت آسان اور تفریح روز بروز مشکل ہوتی جاتی ہے۔ (مثلاً بی اے کرنا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے‘ مگر برج سیکھنے کے لیے عقل درکار ہے) ریڈیو‘ ٹیلی ویژن‘ سینما اور باتصویر کتابوں نے اب تعلیم کو بالکل آسان اور عام کر دیا ہے‘ لیکن کھیل دن بدن گراں اور پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ لہٰذا بعض غبی لڑکے کھیل سے جی چرا کر تعلیم کی طرف زیادہ توجہ دینے لگے ہیں۔ اس سے جو سبق آموز نتائج رونما ہوئے ہیں وہ سیاست دانوں کی صورت میں ہم سب کے سامنے ہیں۔

…رنز نہ بننے کی بڑی وجہ مرزا کے اپنے پینترے تھے۔ وہ اپنی وکٹ ہتھیلی پر لیے پھر رہے تھے۔ وہ کرتے یہ تھے کہ اگر گیند اپنی طرف آتی ہوتی تو صاف ٹل جاتے۔ لیکن اگر ٹیڑھی آتی دکھائی دیتی تو اس کے پیچھے بیٹ لے کر نہایت جوش و خروش سے دوڑتے( کپتان نے بہتیرا اشاروں سے منع کیا مگر وہ دو دفعہ گیند کو باؤنڈری لائن تک چھوڑنے گئے)۔

…سیزر ‘ ماتاہری اور مرزا: تنخواہ ملتے ہی ہم نے گھر گرہستی کا ضروری سامان خرید ڈالا تاکہ کتا اس کی چوکیداری کر سکے‘ لیکن والدین کی سمجھ میں آنے والا جو فوری فائدہ ہم نے سردست بیان کیا‘ اس سے اپنے معصوم بچوں کو جان بوجھ کر محروم رکھنے کے لیے پتھر کا کلیجہ چاہیے۔ وہ فائدہ یہ تھا کہ آخر کو یہ ایک انگریز کا کتا تھا‘ اور یہ کون نہیں جانتا کہ ہمارے ہاں ان پڑھ سے ان پڑھ آدمی بھی اپنے کتے کا نام انگریزی میں رکھتا ہے اور انگریزی ہی میں اس سے بات چیت اور ڈانٹ ڈپٹ کرتا ہے۔ چنانچہ ہم نے اشارۃً توجہ دلائی کہ اس کی وجہ سے بچوں کو انگریزی بولنا آ جائے گی۔

…ہمارے دور کے سب سے بڑے مزاح نگار ابن انشاء کے بارے میں کہیں عرض کر چکا ہوں کہ بچھو کا کاٹا روتا اور سانپ کا کاٹا سوتا ہے۔ انشاء جی کا کاٹا سوتے میں مسکراتا بھی ہے۔ جس شگفتہ نگار کی تحریر اس معیار پر پوری نہ اترے اسے یونیورسٹی کے نصاب میں داخل کر دینا چاہیے۔

…اور جب قندھار میں سائبیریا کی زمہریری ہواؤں سے درختوں پر اناروں کی بجائے برف کے لڈو لٹکتے ہیں‘ گوالے گائے کے تھنوں سے آئس کریم دوہتے ہیں‘ اور سردی سے تھر تھر کانپتے ہوئے انسان کے دل میں خود کو واصل جہنم کرنے کی شدید خواہش ہوتی ہے‘ تو اہالیان قندھار کمبل سے چمٹ کر ہمسایہ ملک کی طرف غضب ناک نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ چھوٹے ملکوں کے موسم بھی تو اپنے نہیں ہوتے۔ ہوائیں اور طوفان بھی دوسرے ملکوں سے آتے ہیں۔ زلزلوں کا مرکز بھی سرحد پار ہوتا ہے۔

…کئی دفعہ عینک توڑنے کے بعد اب ہم اسے اتار کر بے خطر کھیلنے لگے تھے۔ کھیلتے کیا تھے‘ ہر ایک سے مینڈھے کی طرح ٹکریں لیتے پھرتے تھے۔مخالف ٹیم میں ہمیشہ بہت پاپولر تھے۔ اس لیے کہ اپنی ہی ٹیم سے گیند چھینتے اور انھیں کو فاؤل مارتے پھرتے تھے۔ کھیل کے شروع میں ’’ٹاس‘‘ کیا جاتا۔ جو کپتان ٹاس ہار جاتا وہ ہمیں اپنی ٹیم میں شامل کرنے کا پابند ہوتا ۔ جب تک مخالف کھلاڑی تاک کر ہمارے پاؤں پر زور سے فٹ بال نہ مارے‘ وہ ہمارے کک سے محروم ہی رہتی تھی۔

…کچھ دن فٹ بال سے بھی سر مارا ۔ آخری لمحہء اتصال تک یہ فیصلہ نہیں کر پاتے تھے کہ اس دفعہ فٹ بال پر اپنا دایاں پاؤں ماریں یا بایاں زیادہ مناسب رہے گا۔ دودھ کے دانت ٹوٹنے سے پہلے ہی ہم خاصے دبیز شیشے کی عینک لگانے لگے تھے۔ (جو حضرات ضعف بصارت سے محروم ہیں‘ ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ اب کبھی ہم عینک اتار کر آئینہ دیکھتے ہیں تو بخدا اپنے کان نظر نہیں آتے)۔

…’’آخر تم یہ پیشہ کیوں اختیار کرنا چاہتے ہو؟ کوئی معقول وجہ؟‘‘

ہم کافی نروس ہو چکے تھے۔ دو تین دفعہ زور لگانے کے بعد جو آواز آچانک ہمارے منہ سے نکلی وہ اس سے پہلے ہم نے کبھی نہیں سنی تھی۔شاید اسے بھی ترس آگیا۔ اب کے آسان سوال کیا۔ ’’جوانی ‘ میرا مطلب ہے طالب علمی کے زمانے میں کن کھیلوں سے دلچسپی رہی؟‘‘

’’کیرم اورلوڈو‘‘۔

’’میرا مطلب مردانہ کھیلوں سے تھا‘‘۔

ہمارا یہ خانہ بالکل خالی تھے۔ پانچویں جماعت میں البتہ سالانہ اسپورٹس کی دوڑ میں ہمارا اکیسواں نمبر آیا تھا۔ دوڑ میں اتنے ہی لڑکے شریک ہوئے تھے۔

…میں خود کو سکندر اعظم سے زیادہ خوش نصیب و کامران سمجھتا ہوں۔ اس لیے کہ میں زندہ ہوں ۔ میری ایک سانس کی بادشاہت ابھی باقی ہے۔ نہاں خانہ دل کی ہیرو گیلری پر نگاہ کی تو کسی کی رمق تک اپنی ذات میں نظر نہ آئی… ہنری ہشتم‘ سیمول جانسن‘ گوتم بدھ‘ فالسٹاف‘ بابر‘ غالب‘ پک وک‘ بچے‘ امیر خسرو… ہاں ذہن پر ذرا زور ڈالا تو بعض مشاہیر کے جن چیدہ چیدہ اوصاف اور شباہتوں کا اپنی ذات میں جمگھٹا نظر آتا‘ کاش وہ نہ ہوتیں تو زندگی سنور جاتی ۔ مثلاً نپولین کا قد‘ جولیس سیزر کا چٹیل سر‘ جینا لولو بریجیدا کا وزن‘ سیمول جانسن کی بینائی۔

…’’چلوہاکی سہی۔ہم نے سمجھوتے کے انداز میں کہا۔’’چھی! ہماری یہ بڑی کمزوری ہے کہ اپنی ٹیم کسی کھیل میں جیت جائے تو اسے قومی کھیل سمجھنے لگتے ہیں اور اس وقت تک سمجھتے رہتے ہیں جب تک کہ ٹیم دوسرا میچ نہ ہار جائے‘‘۔ مرزا نے فتویٰ دیا۔

محترم ایس ایم شاہد‘ آپ نے نایاب ادبی کام کیا ہے۔ جیتے رہیے ‘ اور اسی معیار کے کارنامے سرانجام دیتے رہیے۔