قائداعظم نامی شہری کا شناختی کارڈ بلاک، درخواستگزار کو نادرا بورڈ کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت

درخواست گزار پاکستانی شہری ہے اور اپنا کاوربار چلا رہا ہے، وکیل درخواست گزار


ویب ڈیسک July 27, 2026

پشاور:

پشاور ہائیکورٹ نے قائد اعظم نامی درخواست گزار کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کے خلاف دائر رٹ پٹیشن پر اسکی  افغانستان ڈیپورٹیشن روک دی اور اسے ہدایت کی کہ نادرا ویریفکیشن بورڈ کے سامنے پیش ہو جائے۔

رٹ پٹیشن کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس وقار احمد اور جسٹس انعام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت عدالت میں درخواست گزار کے وکیل اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل نادرا شاہد عمران گیگیانی پیش ہوئے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اسکا مؤکل ایک کاروباری شخصیت ہے جو پاکستان اور دبئی میں کاروبار کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسکا شناختی کارڈ بلاک کیا گیا حالانکہ وہ پاکستانی شہری ہے اور اپنا کاروبار چلا رہا ہے، اس کے باوجود نادرا نے اس کا شناختی کارڈ بلاک کیا ہوا ہے جس کے باعث انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔

اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل نادرا شاہد عمران گیگیانی نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے جواب جمع کیا ہے اور اس میں رپورٹ  موجود ہے کہ درخواست گزار کا شناختی کارڈ مشکوک ہیں۔

اس پر درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اسکے مؤکل کو نادرا کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ چچا کو لے کر آئیں جبکہ وہ کاروبار کا ٹیکس حکومت کو دے رہا ہے، اب ان کو تنگ کیا جارہا ہے، شناختی کارڈ بلاک کیا ہے جبکہ اس کے خاندان کے دیگر افراد کے پاس پاکستانی شناختی کارڈز ہیں۔

عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر درخواست گزار کو نادرا کے ویریفکیشن بورڈ کے سامنے پیش ہونے جبکہ انتظامیہ اس وقت تک ڈی پورٹ نہ کرنے کا حکم جاری کر دیا۔