جدیدیت کا سراب

معیشت کا ایک بنیادی اصول ہے کہ اگر آپ کوئی خطرے والی سرمایہ کاری کر رہے ہیں، تو کم از کم 10 فی صد منافع (آر او آئی) کی توقع تو کی جاتی ہے۔


شیخ جابر July 27, 2026

گزشتہ دنوں کراچی کے ایک گنجان الیکٹرانکس بازار میں میری ملاقات ایک ایسے بے بس باپ سے ہوئی جس کے چہرے کی گہری جھریاں اس عالمی استحصالی نظام کی سفاکی کی پوری داستان سنا رہی تھیں۔ وہ اپنی ہونہار بیٹی کے لیے، جس کا حال ہی میں ایک اچھی یونیورسٹی میں داخلہ ہوا تھا، ایک لیپ ٹاپ خریدنے آیا تھا۔

اس نے مہینوں اپنی محدود تنخواہ سے پیٹ کاٹ کر کچھ رقم جوڑی تھی، بہ مشکل ایک بجٹ بنایا تھا کہ بچے کی تعلیم میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ مگر دکان دار نے اسے جو قیمت بتائی، وہ اس کی جمع پونجی سے کہیں زیادہ تھی۔ جب اس نے حیرت اور مایوسی سے پوچھا کہ ’’ بھائی جان، پچھلے مہینے تو آپ نے اس کی قیمت بہت کم بتائی تھی، اچانک ایسا کیا طوفان آ گیا؟‘‘ تو دکاندار کا روکھا مگر حقیقت پر مبنی جواب تھا۔’’صاحب، پیچھے سے چیزیں مہنگی ہو گئی ہیں۔‘‘ اسے کیا معلوم کہ مارکیٹ میں میموری چپس شارٹ ہیں۔ دنیا میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی جنگ چل رہی ہے، اس لیے ہر الیکٹرانک مشینری کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔

’’لینا ہے تو لیں، کل یہ مزید مہنگا ہو جائے گا۔‘‘ دکان دار للکارا۔

وہ دکھی باپ تو شاید یہ سمجھ کر خالی ہاتھ لوٹ گیا کہ یہ ہماری ملکی معیشت کی کوئی خرابی یا دکاندار کی منافع خوری ہے، لیکن درحقیقت اس کی بیٹی کے لیپ ٹاپ کی قیمت ہزاروں کلومیٹر دور لڑی جانے والی ایک ایسی عالمی جنگ کی وجہ سے بڑھی تھی جس کا ایندھن مجھ اور آپ جیسے عام انسانوں کی جیب سے نکالا جا رہا ہے۔

ہم عام زندگی میں عموماً یہ سوچتے ہیں کہ سلیکان ویلی کے ارب پتی اپنے شیشے کے محلوں میں بیٹھ کر جو بھی کھیل کھیل رہے ہیں، اس کا ہمارے روزمرہ مسائل، ہمارے کچن یا ہماری جیب سے کیا تعلق؟ لیکن سرمایہ دارانہ نظام کا جال اتنا باریک، سفاک اور عالمگیر ہے کہ امریکا میں بیٹھی بڑی ٹیک کمپنیوں کی اندھی ہوس کا براہِ راست اثر کراچی، لاہور یا پشاور کے ایک عام شہری کی قوتِ خرید پر پڑتا ہے۔ ذرا جون 2026 کی ہی مثال لے لیجیے۔ ایککمپنی نے بغیر کوئی نیا ماڈل متعارف کرائے، اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافہ کر دیا۔ جب وجہ پوچھی گئی تو جواب آیا۔’’میموری چپس اور اے آئی کی بڑھتی ہوئی لاگت۔‘‘ یعنی، ایک عام صارف، چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھا ہو، اب ان کمپنیوں کے مصنوعی ذہانت کے پاگل پن کا باقاعدہ ’’ٹیکس‘‘ ادا کر رہا ہے۔

آئیے !ذرا حقائق اور تازہ ترین اعداد و شمار کے بے رحم آئینے میں اس ’’پاگل پن‘‘ کا جائزہ لیں۔ آج کل ہر طرف اے آئی کا غلغلہ ہے۔ ہر اخبار، ہر اسکرین پر یہ بیانیہ بیچا جا رہا ہے کہ یہ کائنات کا حتمی معجزہ ہے، لیکن اس نام نہاد معجزے کی معاشی قیمت کیا ہے؟ 2020 میں دنیا کی چار بڑی ٹیک کمپنیاں اپنے بنیادی ڈھانچے پر مجموعی طور پر 90 ارب ڈالر خرچ کر رہی تھیں۔ 2023 میں یہ خرچ بڑھ کر 147 ارب ڈالر ہوا، اور 2026 آتے آتے یہ رقم 725 ارب ڈالر کی ناقابلِ یقین حد تک پہنچ چکی ہے۔ صورت حال یہ ہو چکی ہے کہ یہ کمپنیاں اپنی کل آپریٹنگ آمدنی کا 94 فی صد صرف اے آئی کے نت نئے ڈیٹا سینٹرز بنانے اور چپس خریدنے پر جھونک رہی ہیں، گویا اگر یہ 100 روپے کماتی ہیں، تو 94 روپے واپس اسی اندھے کنویں میں ڈال دیتی ہیں۔

معیشت کا ایک بنیادی اصول ہے کہ اگر آپ کوئی خطرے والی سرمایہ کاری کر رہے ہیں، تو کم از کم 10 فی صد منافع (آر او آئی) کی توقع تو کی جاتی ہے۔ ماہرین شماریات کے مطابق، اس حساب سے اے آئی انڈسٹری کو اپنے اس کھربوں ڈالر کے خرچ کو جواز فراہم کرنے کے لیے ہر سال کم از کم 650 ارب ڈالر کمانے چاہئیں، لیکن زمینی حقیقت کیا ہے؟ تمام بڑی اے آئی کمپنیاں بمشکل 75 ارب ڈالر کما پا رہی ہیں اور منافع تو دور کی بات،سالانہ 17 سے 20 ارب ڈالر کے خالص خسارے میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ 650 ارب ڈالر کی ضرورت اور بمشکل 75 ارب ڈالر کی کمائی... ذرا اس خلیج کو محسوس کریں۔

یہ کوئی معاشی ترقی یا تہذیبی ارتقاء نہیں ہے، یہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا مالیاتی غبارہ (فنانشنل ببل) ہے جس میں مسابقت کے خوف کی ہوا بھری جا رہی ہے۔یہ منظر نامہ تاریخ کے طالب علموں کے لیے نیا ہرگز نہیں۔ 1990 کی دہائی کے آخر میں بھی بالکل ایسا ہی جنون انٹرنیٹ اور فائبر آپٹک کیبلز کے لیے پیدا ہوا تھا۔ تب بھی اربوں ڈالر اس اندھے یقین کے ساتھ زمین میں گاڑ دیے گئے تھے کہ انٹرنیٹ کا ٹریفک ہر گزرتے دن کے ساتھ ہزاروں گنا بڑھے گا۔ نتیجہ کیا نکلا؟ 2000 میں وہ مشہور زمانہ ’’ٹیلی کام ببل‘‘ ایک خوفناک دھماکے سے پھٹا۔ کھربوں ڈالر راکھ ہو گئے، دیوہیکل کمپنیاں دیوالیہ ہوئیں اور پتا چلا کہ جو تاریں زمین میں بچھائی گئی تھیں ان میں سے 97 فیصد کا تو کوئی استعمال ہی نہیں تھا۔ سرمایہ دارانہ نظام ہمیشہ ضرورت سے زیادہ گنجائش (اوور کیپیسٹی)پیدا کرتا ہے اور پھر اپنے ہی وزن سے گر جاتا ہے۔ آج وہی تاریخ مصنوعی ذہانت کے نام پر دہرائی جا رہی ہے۔

یہیں سے مغربی جدیدیت کا وہ گہرا فلسفیانہ اور ساختیاتی تضاد شروع ہوتا ہے جسے سمجھے بغیر ہم اس سراب سے باہر نہیں آ سکتے۔ سرمایہ دارانہ نظام ایک نہایت بنیادی اور مہلک فریب پر کھڑا ہے۔’’محدود طبعی وسائل والی زمین پر، لامحدود معاشی ترقی کی ہوس۔‘‘ جدیدیت نے بڑی مکاری سے ایک لفظ تراشا ہے جسے ’’کلاؤڈ‘‘کہا جاتا ہے۔ یہ لفظ سن کر عام آدمی کے ذہن میں فوراً کسی ہلکے پھلکے، غیر مادی اور شفاف بادل کا تصور ابھرتا ہے، جیسے ہمارا سارا ڈیٹا ہوا میں کہیں تیر رہا ہو۔ درحقیقت، یہ مادے اور استحصالی رویوں کو تجرید کے پردے میں چھپانے کا ایک دلفریب ہنر ہے۔

سچائی یہ ہے کہ یہ ’’کلاؤڈ‘‘ آسمان پر نہیں، بلکہ زمین پر موجود کنکریٹ، لوہے، تانبے، سلیکون اور پلاسٹک سے بنے ہوئے دیوہیکل، کھڑکیوں کے بغیر فیکٹری نما ڈیٹا سینٹرز میں قید ہے۔ یہ ایک بھاری اور سفاک صنعت ہے جو ہر روز ہماری زمین کا سینہ چیر کر طبعی وسائل نگل رہی ہے۔ آپ جو بھی نام نہاد ’’مصنوعی ذہانت‘‘ پیدا کر رہے ہیں، کائنات کے کسی نہ کسی حصے میں اس کی قیمت طبعی تباہی کی صورت میں لازماً ادا کی جا رہی ہے۔اس مشین کی پیاس اور بھوک کی شدت کا اندازہ لگائیے۔

محض ایک سوال کم از کم 10 گنا زیادہ بجلی استعمال کرتا ہے۔ جب دنیا کی 8 ارب آبادی اسے اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا لے گی، تو اتنی بجلی کہاں سے آئے گی؟ دنیا کے موجودہ پاور گرڈز اس قابل ہی نہیں کہ اس جناتی طلب کو پورا کر سکیں۔ اور اس سے بھی بڑا اور لرزہ خیز المیہ پانی کا ہے۔ آج کئی ترقی یافتہ ممالک میں، جہاں یہ ڈیٹا سینٹرز قائم ہیں، مقامی کسانوں، شہریوں اور ان ٹیک کمپنیوں کے درمیان پانی کے حصول پر باقاعدہ جنگیں شروع ہو چکی ہیں۔ جب مشین کی کولنگ اور انسان کی پیاس میں سیدھا تصادم ہوگا، تو اس بے رحم استحصالی نظام میں فیصلہ کس کے حق میں ہوگا؟

جدیدیت کا یہ طلسماتی سراب بالآخر فطرت کی ٹھوس دیوار سے ٹکرا کر پاش پاش ہونے کو ہے۔ سرمایہ داری کی یہ آخری ہچکی اور دیوانہ وار دوڑ یہ بتا رہی ہے کہ انسان نے مشین کو ذہین بنانے کی دھن میں خود اپنی بقا اور شعور کے چشمے خشک کر دیے ہیں۔ کیا کلاؤڈ پر محفوظ ہمارا یہ سارا ’’مصنوعی علم‘‘ ہماری حقیقی بھوک اور پیاس مٹا سکے گا؟