یوکرین نے عراقی حکام کی جانب سے سرکاری تنصیبات پر بم باری اور حملوں میں یوکرین سے منسلک گروپ کے ملوث ہونے کے الزام کو مسترد کردیا ہے جبکہ بغداد میں ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی انادولو کی رپورٹ کے مطابق یوکرین نے عراق کی قومی سلامتی کے مشیر قاسم العبادی کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کو مسترد کردیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سرکاری تنصیبات پر حملوں کے پیچھے یوکرین سے منسلک گروپ شامل ہے۔
عراق کی قومی سلامتی کے مشیر قاسم العبادی نے دعویٰ کیا تھا کہ یوکرین سے منسلک گروپ نے سرکاری تنصیبات پر بم باری کی اور اس حوالے سے مزید تفتیش جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے محدود تعداد میں گروپس کو گرفتار کرلیا ہے جو عراقی کے اندر حملوں اور کئی تنصیبات کو نشانہ بنانے میں ملوث ہیں، گرفتار ملزمان نے تفتیش کے دوران یوکرین کے لیے کام کرنے کا اعتراف کیا ہے۔
عراقی مشیر قومی سلامتی کا کہنا تھا کہ عراقی حدود میں حملے سنگین معاملہ ہے اور اس کے لیے وسیع پیمانے پر تفتیش کی ضرورت ہے، جس کے بعد ذمہ داری کا تعین کیا جاسکے گا اور ذمہ دار گروپ کا کھوج لگایا جاسکے گا۔
دوسری جانب یوکرین کی وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ الزامات کے حوالے سے کوئی ثبوت پیش نہیں کیے گئے ہیں اور قاسم العبادی کے الزامات کو کوئی ثبوت نہیں ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اس طرح کے الزامات کے کوئی حقائق یا ثبوت موجود نہیں ہیں اور اس کا اعتراف عراقی حکام نے انٹرویو میں خود بھی کیا ہے اور عراق کی جانب سے یوکرین کے ساتھ سفارتی سطح پر کسی قسم کی تشویش کا اظہار بھی نہیں کیا۔
یوکرینی وزارت خارجہ نے کہا کہ اگر الزامات کی کوئی بنیاد ہو تو کوئی رابطہ قائم کیا جاتا لیکن یوکرین کو ان الزامات کا صرف ٹی وی کے ذریعے علم ہوا ہے۔
یوکرین نے کہا کہ اس طرح کے الزامات ناقابل قبول اور غیرذمہ دارانہ ہیں اور خبردار کیا کہ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے جبکہ یوکرین مشرق وسطیٰ میں عراق کو اپنا ایک اہم شراکت دار تصور کرتا ہے اور عراق سے دو طرفہ سیاسی، معاشی اور فلاحی تعاون کا فروغ چاہتا ہے۔