لاہور میں اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور اعوان کے گھر غلط فہمی کی بنیاد پر پر پولیس کی نفری لانے پر ایس ایچ او سمیت 11 اہلکاروں کے خلاف درج مقدمے میں درخواست ضمانت کا تحریری حکم جاری کردیا گیا۔
اٹارنی جنرل کے ڈرائیور عرفان نے بتایا کہ جب پولیس آئی تو صرف ملازم گھر پر تھے، پولیس اہلکاروں نے گھر کے باہر رکھےگملے بھی توڑ دیے، پولیس پارٹی جاتے ہوئے سی سی ٹی وی کیمروں کا سسٹم بھی ساتھ لے گئی تھی۔ اطلاع ملنے پر اٹارنی جنرل میٹنگ سے فارغ ہوکر واپس گھر پہنچے تو پولیس سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج ڈیلیٹ کرکے ڈی وی آر واپس کرگئی۔
پولیس کے مطابق ایس ایچ او تھانہ سرور روڈ کی قیادت میں پولیس پارٹی 27 جولائی کی شام 6 بجے گیٹ پھلانگ کر اٹارنی جنرل پاکستان منصور اعوان کے گھر میں داخل ہوگئی اور وہاں موجود ملازمین کو ہراساں کیا۔
پولیس کے مطابق اٹارنی جنرل کے ساتھ والےگھر میں جرائم پیشہ افراد کی موجودگی کی اطلاع تھی لیکن غلطی سے وہ اٹارنی جنرل کے گھرمیں داخل ہوگئے۔
پولیس نے ایس ایچ او سرور روڈعرفان سمیت 11 پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں چارج شیٹ کر دیا۔ ایف آئی آر کے مطابق پولیس نے چھاپہ مار کر اختیارات سے تجاوز کیا۔
گزشتہ روز ایس ایچ او سرور روڈ نے عدالت سے عبوری ضمانت کرالی تھی جب کہ آج سیشن کورٹ لاہور نے ایس ایچ او سمیت چھ اہلکاروں کی عبوری درخواست ضمانت کا تحریری حکم جاری کردیا۔
ایڈیشنل سیشن جج ذوالفقار احمد نعیم نے تحریر حکم جاری کیا جس کے مطابق ایس ایچ سمیت 6اہلکاروں کو 12 اگست تک ملزمان کو گرفتار نہ کیا جائے، ملزمان کی عبوری ضمانت 50،50 ہزار ضمانتی مچلکوں کے عوض منظور کی جاتی ہے، ایس ایچ او سمیت دیگر ملزمان کو شامل تفتیش ہوں۔
ملزمان میں ایس ایچ او اعجاز حیدر،محمد عرفان، سیرت طارق شامل ہیں، ملزمان کے خلاف تھانہ سرور روڈ پولیس نے مقدمہ درج کر رکھاہے۔