بغداد: عراق کے وزیراعظم علی فالح الزیدی نے ملک میں ہونے والے مہلک حملوں کے بعد اپنا طے شدہ دورۂ سعودی عرب مؤخر کر دیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر یہ فیصلہ فوری طور پر کیا گیا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم علی فالح الزیدی جمعرات کو سعودی عرب کے سرکاری دورے پر روانہ ہونے والے تھے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون سے متعلق مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہونا تھے۔
رپورٹس کے مطابق اس دورے کے دوران عراق اور سعودی عرب کے درمیان سیکیورٹی تعاون، دوطرفہ تعلقات، اقتصادی شراکت داری اور خطے کی تازہ صورتحال پر بھی اہم مذاکرات متوقع تھے۔
تاہم بدھ کے روز عراق میں ہونے والے مشترکہ امریکا اور سعودی عرب سے منسوب فضائی حملوں کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی۔ ان حملوں میں کم از کم 20 عراقی جنگجوؤں کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد بغداد میں سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے۔
ذرائع کے مطابق انہی حالات کے باعث وزیراعظم نے اپنا دورہ مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ ملک کی داخلی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لے سکیں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مشاورت جاری رکھ سکیں۔
تاحال عراقی حکومت نے دورے کی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا، جبکہ سعودی عرب کی جانب سے بھی اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق دورے کا مؤخر ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عراق اس وقت داخلی سلامتی اور علاقائی کشیدگی کو اولین ترجیح دے رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات عراق اور سعودی عرب کے سفارتی روابط اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔