چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے پی ٹی آئی آزاد کشمیر کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اس معاملے پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ 27 جولائی کو انتخابات کے نام پر دھاندلی کی گئی، پی ٹی آئی قیادت کو آزاد کشمیر جانے سے روکا گیا اور گولی و لاٹھی سے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے موجودہ حالات کی مذمت کرتے ہیں اور دو سیاسی جماعتیں ان حالات کی ذمہ دار ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے مبینہ انتخابی دھاندلی کے باعث انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔ ان کے مطابق تاریخی طور پر ٹرن آؤٹ کم رہا، عوام نے انتخابی عمل کو مسترد کر دیا، فائرنگ کے واقعات کی مذمت کرتے ہیں اور جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کرتے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ آزاد کشمیر کی حکومت مستعفی ہو، نیشنل حکومت قائم کر کے پورے آزاد کشمیر میں ایک ہی روز شفاف انتخابات کرائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں تین سال ہو چکے ہیں، جبکہ 5 اگست کو پشاور میں جلسہ کیا جائے گا، جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
سابق وزیراعظم آزاد کشمیر عبدالقیوم نیازی نے کہا کہ آزاد کشمیر کے حالات انتہائی سنگین ہیں، انہوں نے کہا کہ کشمیریوں نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا، عوامی تحریک کے مطالبات جائز تھے مگر ان پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مرحلہ وار انتخابات کے ذریعے عوام کے ساتھ دھوکہ کیا جا رہا ہے، طاقت کا استعمال بند کیا جائے، کیونکہ اس سے دنیا بھر میں غلط پیغام جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ان انتخابات کو مسترد کرتی ہے اور عوام نے بھی ان کا بائیکاٹ کیا ہے۔
چیف آرگنائزر پی ٹی آئی آزاد کشمیر حمید پوٹھی نے کہا کہ آزاد کشمیر میں ٹرن آؤٹ 5 فیصد بھی نہیں تھا۔ اگر دو جماعتوں کو ہی اقتدار دینا تھا تو انتخابات کرانے کی ضرورت کیا تھی۔
انہوں نے میرپور میں پیش آنے والے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پرامن لوگوں پر گولیاں چلائی جا رہی ہیں، دو ماہ سے انٹرنیٹ بند ہے اور عوام انتخابی عمل کو مسترد کر چکے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نیشنل حکومت قائم کر کے آزاد کشمیر میں نئے، صاف اور شفاف انتخابات کرائے جائیں۔